Showing posts with label ثمریاب ثمر. Show all posts
Showing posts with label ثمریاب ثمر. Show all posts

Sunday, 13 November 2022

خرمن ہستی پہ پھر بارش رحمت کر دے

 خرمنِ ہستی پہ پھر بارشِ رحمت کر دے

دل شکستہ ہے مِرا آج سلامت کر دے

ہم پہ ٹوٹا ہے یہاں کوہِ الم اے مولا

اہم ہیں مظلوم کہ اب تھوڑی حمایت کر دے

مجھ سے معصوموں کی لاشیں نہیں دیکھی جاتیں

میری آنکھوں سے تو کافور بصارت کر دے

Monday, 24 October 2022

مرے وطن میں تجھی پر یہ جاں نثار کروں

 مرے وطن


حسیں رُتوں کی تِرے نام یہ بہار کروں

مِرے وطن میں تجھی پر یہ جاں نثار کروں

٭

ترے علم کو خمیدہ کبھی نہ ہونے دوں

اسے بلندی پہ رکھنا مری عبادت ہے

لٹا دوں جان میں تجھ پر، نہ آنچ آنے دوں

وطن کی آن پہ مرنا بھی اک شہادت ہے

Tuesday, 22 March 2022

صبح کی سوجھ نہیں شام کا اندازہ نہیں

 صبح کی سوجھ نہیں شام کا اندازہ نہیں

ہم سے مزدوروں کو اس کام کا اندازہ نہیں

آپ نے دیکھا نہیں بھوک کا چہرہ شاید

اس لیے تلخئ ایام کا اندازہ نہیں

آپ مالک ہیں کہاں سمجھیں گے مزدور کا درد

آپ کو زیست کے آلام کا اندازہ نہیں

Thursday, 3 February 2022

اسے رہگزر کوئی کھا گئی یا بچھڑ کے اپنے ہی گھر گیا

 اسے رہگزر کوئی کھا گئی یا بچھڑ کے اپنے ہی گھر گیا

’’وہ جو عمر بھر کی رفاقتوں کا تھا مدعی وہ کدھر گیا‘‘

وہ جو خواب تھے وہ بکھر گئے وہ جو آس تھی وہ سمٹ گئی

مجھے خوف جس کا تھا ہر گھڑی، مِرا ہم نوا وہی کر گیا

یہ نئے زمانے کی رِیت ہے تِری کیا خطا تجھے کیا کہوں

تجھے دل سے جس نے لگایا تھا وہی تیرے دل سے اتر گیا

نہیں سہل عشق کی رہگزر، میں الم نصیب و خطا سرشت

Wednesday, 28 July 2021

اس شہر ستم گر کی کیا خوب علامت ہے

 اس شہرِ ستم گر کی کیا خوب علامت ہے

پھولوں پہ ہے پابندی خوشبو کی تجارت ہے

حاکم بھی یہاں جھوٹا، منصف بھی بِکاؤ ہے

رشوت کا چلن ہر سُو اور جُھوٹی عدالت ہے

مظلوم کو پھانسی ہے، ظالم کی رہائی ہے

مقتول تہِ ذِلت،۔ قاتل پہ عنایت ہے

Tuesday, 27 July 2021

نہ جانے کیسے مٹے گی یہ آپسی رنجش

 نہ جانے کیسے مٹے گی یہ آپسی رنجش

ہمارے گھر میں چلی آئی باہری رنجش

ہزاروں سائے تو اک پیڑ کے نہیں ہوتے

مِری تو فہم سے باہر ہے مسلکی رنجش

سبھی کی ایک ہی منزل ہے آؤ مل کے چلیں

فنا نصیبو! کہاں تک یہ باہمی رنجش؟

Sunday, 25 July 2021

جس دیس نے قاتل کو عزت سے نوازا ہو

 جس دیس نے قاتل کو عزت سے نوازا ہو

اس دیس کا مستقبل فی الحال اکارت ہے

مسلم ہی ہراساں کیوں، کیوں اس پہ تشدد ہے

اے اہلِ جنوں! کہہ دو، آثارِ قیامت ہے

بے خوف جہاں ہر دم سینوں پہ چلیں گولی

اس جنتِ ارضی کی اب یارو یہ حالت ہے

ڈھل کے اشعار میں آ سادہ بیانی میں اتر

 ڈھل کے اشعار میں آ سادہ بیانی میں اُتر

اپنا کردار نبھا اور کہانی میں اتر

کارواں زیست کا آگے نہ نکل جائے کہیں

ہمنوا دیر نہ کر آ کے جوانی میں اتر

تتلیوں سنگ کبھی صحن گلستاں میں آ

بن کے خوشبو تو کبھی رات کی رانی میں اتر

Saturday, 24 July 2021

ادب ہی اٹھ گیا جب زندگی سے

 ادب ہی اُٹھ گیا جب زندگی سے

ملے گا کیا بَھلا پھر شاعری سے

انا نے سب کو اندھا کر دیا ہے

کوئی ملتا نہیں ہے عاجزی سے

یہ کیا ماحول ہے شہرِ وفا کا

نہیں ہے مطمئن کوئی کسی سے

صدا جو دل سے نکلی ہو زباں پر لے ہی آتا ہوں

 صدا جو دل سے نکلی ہو زباں پر لے ہی آتا ہوں

سنو اے صاحبانِ علم و فن! میں کیا سناتا ہوں

ملی اجداد سے میرے یہی میراث ہے مجھ کو

میں اک مزدور کا بیٹا ہوں محنت کر کے کھاتا ہوں

شکم کی آگ کے آگے تپش سورج کی بے معنی

اسی کو سرد کرنے کو پسینے میں نہاتا ہوں

Friday, 23 July 2021

کبھی سوچا ہے اے ٹی وی پہ سج کے بھونکنے والو

 بکاؤ میڈیا کے نام


کوئی سرحد پہ لڑتا ہے

کسی کے بھاؤ بڑھتے ہیں

کسی کا گھر اُجڑتا ہے

کسی کا لعل چِھنتا ہے

کسی کی مانگ جب 

سندور سے محروم ہوتی ہے

Thursday, 22 July 2021

رسم الفت وہ نبھا اپنا بنانے والے

 رسمِ الفت وہ نبھا اپنا بنانے والے

مدتوں یاد کریں ہم کو زمانے والے

آج اخلاص و محبت بھی ہیں وقتی یارو

کم ہی ملتے ہیں یہاں ساتھ نبھانے والے

میری منزل کا پتہ کون بتائے مجھ کو

خود ہیں گمراہ یہاں راہ دکھانے والے

Saturday, 29 May 2021

دل میں پلتے ارمانوں کا کیا ہو گا

 دل میں پلتے ارمانوں کا کیا ہو گا

تیرے پاگل دیوانوں کا کیا ہو گا

گاؤں چھوڑ کے جانے والے سوچنا تھا

تیرے اپنے بے گانوں کا کیا ہو گا

تجھ ہی سے تو رونق ہے میخانے کی

تیرے پیچھے پیمانوں کا کیا ہو گا

Friday, 19 March 2021

نسیم مشکبار بھی کیوں آج سوگوار ہے (مکمل کلام)

 نسیم مشکبار بھی کیوں آج سوگوار ہے

یہ کون چل بسا یہاں ہر آنکھ اشکبار ہے

نسیمِ صبح کہہ گئی دلوں پہ برق پڑ گئی

چراغ تھا جو بجھ گیا، وہ انجمن اجڑ گئی

وہ مہوشوں کی ٹولیاں وہ بزمِ جاں بچھڑ گئی

فسردہ نظم ہی نہیں غزل بھی بے قرار ہے