خرمنِ ہستی پہ پھر بارشِ رحمت کر دے
دل شکستہ ہے مِرا آج سلامت کر دے
ہم پہ ٹوٹا ہے یہاں کوہِ الم اے مولا
اہم ہیں مظلوم کہ اب تھوڑی حمایت کر دے
مجھ سے معصوموں کی لاشیں نہیں دیکھی جاتیں
میری آنکھوں سے تو کافور بصارت کر دے
خرمنِ ہستی پہ پھر بارشِ رحمت کر دے
دل شکستہ ہے مِرا آج سلامت کر دے
ہم پہ ٹوٹا ہے یہاں کوہِ الم اے مولا
اہم ہیں مظلوم کہ اب تھوڑی حمایت کر دے
مجھ سے معصوموں کی لاشیں نہیں دیکھی جاتیں
میری آنکھوں سے تو کافور بصارت کر دے
مرے وطن
حسیں رُتوں کی تِرے نام یہ بہار کروں
مِرے وطن میں تجھی پر یہ جاں نثار کروں
٭
ترے علم کو خمیدہ کبھی نہ ہونے دوں
اسے بلندی پہ رکھنا مری عبادت ہے
لٹا دوں جان میں تجھ پر، نہ آنچ آنے دوں
وطن کی آن پہ مرنا بھی اک شہادت ہے
صبح کی سوجھ نہیں شام کا اندازہ نہیں
ہم سے مزدوروں کو اس کام کا اندازہ نہیں
آپ نے دیکھا نہیں بھوک کا چہرہ شاید
اس لیے تلخئ ایام کا اندازہ نہیں
آپ مالک ہیں کہاں سمجھیں گے مزدور کا درد
آپ کو زیست کے آلام کا اندازہ نہیں
اسے رہگزر کوئی کھا گئی یا بچھڑ کے اپنے ہی گھر گیا
’’وہ جو عمر بھر کی رفاقتوں کا تھا مدعی وہ کدھر گیا‘‘
وہ جو خواب تھے وہ بکھر گئے وہ جو آس تھی وہ سمٹ گئی
مجھے خوف جس کا تھا ہر گھڑی، مِرا ہم نوا وہی کر گیا
یہ نئے زمانے کی رِیت ہے تِری کیا خطا تجھے کیا کہوں
تجھے دل سے جس نے لگایا تھا وہی تیرے دل سے اتر گیا
نہیں سہل عشق کی رہگزر، میں الم نصیب و خطا سرشت
اس شہرِ ستم گر کی کیا خوب علامت ہے
پھولوں پہ ہے پابندی خوشبو کی تجارت ہے
حاکم بھی یہاں جھوٹا، منصف بھی بِکاؤ ہے
رشوت کا چلن ہر سُو اور جُھوٹی عدالت ہے
مظلوم کو پھانسی ہے، ظالم کی رہائی ہے
مقتول تہِ ذِلت،۔ قاتل پہ عنایت ہے
نہ جانے کیسے مٹے گی یہ آپسی رنجش
ہمارے گھر میں چلی آئی باہری رنجش
ہزاروں سائے تو اک پیڑ کے نہیں ہوتے
مِری تو فہم سے باہر ہے مسلکی رنجش
سبھی کی ایک ہی منزل ہے آؤ مل کے چلیں
فنا نصیبو! کہاں تک یہ باہمی رنجش؟
جس دیس نے قاتل کو عزت سے نوازا ہو
اس دیس کا مستقبل فی الحال اکارت ہے
مسلم ہی ہراساں کیوں، کیوں اس پہ تشدد ہے
اے اہلِ جنوں! کہہ دو، آثارِ قیامت ہے
بے خوف جہاں ہر دم سینوں پہ چلیں گولی
اس جنتِ ارضی کی اب یارو یہ حالت ہے
ڈھل کے اشعار میں آ سادہ بیانی میں اُتر
اپنا کردار نبھا اور کہانی میں اتر
کارواں زیست کا آگے نہ نکل جائے کہیں
ہمنوا دیر نہ کر آ کے جوانی میں اتر
تتلیوں سنگ کبھی صحن گلستاں میں آ
بن کے خوشبو تو کبھی رات کی رانی میں اتر
ادب ہی اُٹھ گیا جب زندگی سے
ملے گا کیا بَھلا پھر شاعری سے
انا نے سب کو اندھا کر دیا ہے
کوئی ملتا نہیں ہے عاجزی سے
یہ کیا ماحول ہے شہرِ وفا کا
نہیں ہے مطمئن کوئی کسی سے
صدا جو دل سے نکلی ہو زباں پر لے ہی آتا ہوں
سنو اے صاحبانِ علم و فن! میں کیا سناتا ہوں
ملی اجداد سے میرے یہی میراث ہے مجھ کو
میں اک مزدور کا بیٹا ہوں محنت کر کے کھاتا ہوں
شکم کی آگ کے آگے تپش سورج کی بے معنی
اسی کو سرد کرنے کو پسینے میں نہاتا ہوں
بکاؤ میڈیا کے نام
کوئی سرحد پہ لڑتا ہے
کسی کے بھاؤ بڑھتے ہیں
کسی کا گھر اُجڑتا ہے
کسی کا لعل چِھنتا ہے
کسی کی مانگ جب
سندور سے محروم ہوتی ہے
رسمِ الفت وہ نبھا اپنا بنانے والے
مدتوں یاد کریں ہم کو زمانے والے
آج اخلاص و محبت بھی ہیں وقتی یارو
کم ہی ملتے ہیں یہاں ساتھ نبھانے والے
میری منزل کا پتہ کون بتائے مجھ کو
خود ہیں گمراہ یہاں راہ دکھانے والے
دل میں پلتے ارمانوں کا کیا ہو گا
تیرے پاگل دیوانوں کا کیا ہو گا
گاؤں چھوڑ کے جانے والے سوچنا تھا
تیرے اپنے بے گانوں کا کیا ہو گا
تجھ ہی سے تو رونق ہے میخانے کی
تیرے پیچھے پیمانوں کا کیا ہو گا
نسیم مشکبار بھی کیوں آج سوگوار ہے
یہ کون چل بسا یہاں ہر آنکھ اشکبار ہے
نسیمِ صبح کہہ گئی دلوں پہ برق پڑ گئی
چراغ تھا جو بجھ گیا، وہ انجمن اجڑ گئی
وہ مہوشوں کی ٹولیاں وہ بزمِ جاں بچھڑ گئی
فسردہ نظم ہی نہیں غزل بھی بے قرار ہے