Thursday, 3 February 2022

اسے رہگزر کوئی کھا گئی یا بچھڑ کے اپنے ہی گھر گیا

 اسے رہگزر کوئی کھا گئی یا بچھڑ کے اپنے ہی گھر گیا

’’وہ جو عمر بھر کی رفاقتوں کا تھا مدعی وہ کدھر گیا‘‘

وہ جو خواب تھے وہ بکھر گئے وہ جو آس تھی وہ سمٹ گئی

مجھے خوف جس کا تھا ہر گھڑی، مِرا ہم نوا وہی کر گیا

یہ نئے زمانے کی رِیت ہے تِری کیا خطا تجھے کیا کہوں

تجھے دل سے جس نے لگایا تھا وہی تیرے دل سے اتر گیا

نہیں سہل عشق کی رہگزر، میں الم نصیب و خطا سرشت

اے نئے نئے سے مسافرو! جو چلا تو چل کے بکھر گیا

کبھی صحنِ دل میں اداسیاں جو بڑھیں تو ساز میں ڈھل گئیں

کبھی غم جو میری اساس ہے مِری چشمِ تر میں ٹھہر گیا

مِری ذات مشتِ غبار ہے، تِرا اختروں میں شمار ہے

ذرا یہ بتا کہ بچھڑ کے تُو، کہاں رفعتوں پہ ٹھہر گیا

میں پھروں ہوں بارِ جفا لیے کبھی اس ڈگر کبھی اس نگر

کہ ثمر یہاں کا رواج ہے جو بھی چُپ رہا وہی مر گیا


ثمریاب ثمر

ثمر سہارنپوری

No comments:

Post a Comment