Thursday, 3 February 2022

دلوں سے ہوتی ہوئی روح تک اتر آئی

 دلوں سے ہوتی ہوئی روح تک اُتر آئی

کسی کی یاد بھی آئی تو کس قدر آئی

تمام رات نہاتی رہی تھی بارش میں

تبھی تو اتنی چمکتی ہوئی سحر آئی

کسی نے دل کی کہانی سنائی کچھ ایسے

کہ لب خموش ہوئے، اور آنکھ بھر آئی

تلاش کرتی رہی میں بھی چار سُو اس کو

نگاہ وہ بھی مجھے ڈھونڈھتی نظر آئی

بہت دنوں میں ہوئی دل پہ پھر وہی دستک

بہت دنوں میں صبا اپنی کچھ خبر آئی


رشمی صبا

No comments:

Post a Comment