عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
سمجھاتے ہیں منبر پہ نبیؐ مولا، عبادت
النظر اِلیٰ وجہِ علیؑ مولا، عبادت
جنت کے ہیں سردار جو نبیوں کے ہیں سردار
کرتے ہیں تہِ تیغ وہی مولا عبادت
مل جائے مِرا زخم کسی زخمِ جگر سے
گِن لیں مِری زنجیر زنی مولا عبادت
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
سمجھاتے ہیں منبر پہ نبیؐ مولا، عبادت
النظر اِلیٰ وجہِ علیؑ مولا، عبادت
جنت کے ہیں سردار جو نبیوں کے ہیں سردار
کرتے ہیں تہِ تیغ وہی مولا عبادت
مل جائے مِرا زخم کسی زخمِ جگر سے
گِن لیں مِری زنجیر زنی مولا عبادت
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کلام کرتا رہا بار بار نیزے پر
کسی کے لہجے میں پروردگار نیزے پر
حُسینؑ تیرے کٹے سر پہ بوسہ دینے کو
رسولؐ کرتے رہے انتظار نیزے پر
ہُوَ الجمیلُ یُحِبُّ الجمال پڑھتے ہوئے
ہُوا حُسینؑ کا اکبرؑ سوار نیزے پر
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اے منکرِ حیدرؑ تِرے بارے میں نہیں ہے
والعصر! جو مومن ہے خسارے میں نہیں ہے
حسنینؑ کے صدقے میں عطا کر تو میں لے لوں
ورنہ تِری دنیا مجھے وارے میں نہیں ہے
مَن مَاتَ عَلٰی حُبِّ عَلِیؑ مَاتَ شَہِیدا
لیکن یہ ہر اک دل کے سپارے میں نہیں ہے
ابھی تم کو مجھ سے ضرورت پڑی ہے
ابھی راہ سے راہ بھی تو آ کے جڑی ہے
ابھی شاخ در شاخ پتے ہرے ہیں
ابھی پھول کلیوں کی مہکی لڑی ہے
ابھی مسکراہٹ، ابھی دل نوازی
ابھی سج سے دھج پر محبت کھڑی ہے
یتیمِ دل
یونہی عمرِ رفتہ کا حال پوچھا، سوال پوچھا
نحیف سمجھا، نزار جانا، ہنسی اڑائی
کہا تھا یہ بھی ہیں بال بگڑے، تمہارے کیسے سوال بگڑے؟
جواب کوئی نہ بن پڑا تو بس یہ کہا پھر
تمہاری چاہت کا نوزائیدہ ہوں، ابھی تو سانسیں بھی اولیں ہیں
آیت حسن کی جب میں نے تلاوت کی تھی
عشق نے آ کے مِرے ہاتھ پہ بیعت کی تھی
جب ثبوت اور زمانہ تھا محبت کے خلاف
میں نے اس وقت زلیخا کی حمایت کی تھی
مجھ کو مرنے نہ دیا، شعر اتارے مجھ پر
عشق نے بس یہ مِرے ساتھ رعایت کی تھی
جب اس کے وصل کی خواہش جوان ہو رہی تھی
وہ شاہ زادی یقیں سے گمان ہو رہی تھی
وہ میرے پیار سے منکر ہوئی تھی اس پل، جب
قسم اٹھا رہا تھا میں، اذان ہو رہی تھی
میں اس سے عشق پہ گھنٹوں سے بحث کر رہا تھا
نہ میرے اشک رکے، نہ تھکان ہو رہی تھی