Showing posts with label عمار مگسی. Show all posts
Showing posts with label عمار مگسی. Show all posts

Wednesday, 31 July 2024

سمجھاتے ہیں منبر پہ نبی مولا عبادت

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


سمجھاتے ہیں منبر پہ نبیؐ مولا، عبادت

النظر اِلیٰ وجہِ علیؑ مولا، عبادت

جنت کے ہیں سردار جو نبیوں کے ہیں سردار

کرتے ہیں تہِ تیغ وہی مولا عبادت

مل جائے مِرا زخم کسی زخمِ جگر سے

گِن لیں مِری زنجیر زنی مولا عبادت

Tuesday, 16 July 2024

کلام کرتا رہا بار بار نیزے پر

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


کلام کرتا رہا بار بار نیزے پر

کسی کے لہجے میں پروردگار نیزے پر

حُسینؑ تیرے کٹے سر پہ بوسہ دینے کو

رسولؐ کرتے رہے انتظار نیزے پر

ہُوَ الجمیلُ یُحِبُّ الجمال پڑھتے ہوئے

ہُوا حُسینؑ کا اکبرؑ سوار نیزے پر

Tuesday, 11 June 2024

اے منکر حیدر ترے بارے میں نہیں ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


اے منکرِ حیدرؑ تِرے بارے میں نہیں ہے

والعصر! جو مومن ہے خسارے میں نہیں ہے

حسنینؑ کے صدقے میں عطا کر تو میں لے لوں

ورنہ تِری دنیا مجھے وارے میں نہیں ہے

مَن مَاتَ عَلٰی حُبِّ عَلِیؑ مَاتَ شَہِیدا

لیکن یہ ہر اک دل کے سپارے میں نہیں ہے

Friday, 31 March 2023

ابھی تم کو مجھ سے ضرورت پڑی ہے

 ابھی تم کو مجھ سے ضرورت پڑی ہے

ابھی راہ سے راہ بھی تو آ کے جڑی ہے

ابھی شاخ در شاخ پتے ہرے ہیں

ابھی پھول کلیوں کی مہکی لڑی ہے

ابھی مسکراہٹ، ابھی دل نوازی

ابھی سج سے دھج پر محبت کھڑی ہے

Wednesday, 9 December 2020

یونہی عمر رفتہ کا حال پوچھا سوال پوچھا

 یتیمِ دل


یونہی عمرِ رفتہ کا حال پوچھا، سوال پوچھا

نحیف سمجھا، نزار جانا، ہنسی اڑائی

کہا تھا یہ بھی ہیں بال بگڑے، تمہارے کیسے سوال بگڑے؟

جواب کوئی نہ بن پڑا تو بس یہ کہا پھر

تمہاری چاہت کا نوزائیدہ ہوں، ابھی تو سانسیں بھی اولیں ہیں

Sunday, 20 September 2020

آیت حسن کی جب میں نے تلاوت کی تھی

 آیت حسن کی جب میں نے تلاوت کی تھی

عشق نے آ کے مِرے ہاتھ پہ بیعت کی تھی

جب ثبوت اور زمانہ تھا محبت کے خلاف

میں نے اس وقت زلیخا کی حمایت کی تھی

مجھ کو مرنے نہ دیا، شعر اتارے مجھ پر

عشق نے بس یہ مِرے ساتھ رعایت کی تھی

Saturday, 19 September 2020

جب اس کے وصل کی خواہش جوان ہو رہی تھی

جب اس کے وصل کی خواہش جوان ہو رہی تھی

وہ شاہ زادی یقیں سے گمان ہو رہی تھی

وہ میرے پیار سے منکر ہوئی تھی اس پل، جب

قسم اٹھا رہا تھا میں، اذان ہو رہی تھی

میں اس سے عشق پہ گھنٹوں سے بحث کر رہا تھا

نہ میرے اشک رکے، نہ تھکان ہو رہی تھی

Wednesday, 16 September 2020

خموش رہنے سے آتی ہے بس زبانِ عشق

خموش رہنے سے آتی ہے بس زبانِ عشق
کِلابِ دہر کہاں اور کہاں سگانِ عشق؟؟
اک ایک کر کے ہوئے نذرِ عشق سارے اشک
رواں دواں ہوا پلکوں پہ کاروانِ عشق
جو بوسہ گاہِ محبت ہو سجدہ گاہِ وفا
وہی زمین تو ہوتی ہے آسمانِ عشق

Tuesday, 15 September 2020

ہے شام اداسی اذیت دعا نماز اور عشق

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ

ہے شام، اداسی، اذیت، دعا، نماز اور عشق
ہے دشت، چاند، ہوا، میں، خدا نماز اور عشق
ادھر ہیں شکوے، تکبر، انا، خدا اور حسن
ادھر ہیں اشک،ندامت، قضا نماز اور عشق
سکوت، اندھیرا، تہجد کا وقت، رات، چراغ
تمہارے پاؤں، مِرے ہونٹ، ادا نماز اور عشق

Sunday, 13 September 2020

بنا کے ناقہ الفت کا ساربان مجھے

بنا کے ناقۂ الفت کا ساربان مجھے
پھر اس کے بعد پھرایا گیا جہان مجھے
اِدھر وہ بچھڑا اُدھر اک اک ستارا ٹوٹا پھر
میں آسمان کو دیکھوں، اور آسمان مجھے
حسد، نفاق، عداوت، ہوس، دغا، لالچ
لگے ہے زہر یہ نفرت کا خاندان مجھے

Saturday, 12 September 2020

اک لڑکی کے رخ پر کیا بیزاری ہے

اک لڑکی کے رخ پر کیا بے زاری ہے
پھولوں کو بھی کھلنے میں دشواری ہے
عشق میں جب بھی کوئی شخص اجڑتا ہے
لگتا ہے، اب اگلی میری باری ہے
اس سے پوچھو، خوابوں کا اب کیا ہو گا
دن میں جس نے مجھ پر نیند اتاری ہے

اک سانولے بدن سے محبت قبول کر

اک سانولے بدن سے محبت قبول کر
اے ربِ عشق! دل کی شہادت قبول کر
آنکھوں سے میری اس کے دوپٹے تک آیا ہے
اے ربِ درد! اشک کی ہجرت قبول کر
صحرا اگر نہیں ہے تو صحرا سے کم نہیں
اے ربِ قیس! قلب کی وحشت قبول کر

Thursday, 10 September 2020

بقا کا اور فنا کا معاملہ ہے حضور

بقا کا اور فنا کا معاملہ ہے حضور
چراغ اور ہوا کا معاملہ ہے حضور
میں اس کو مانوں نہ مانوں مجھے ملے نہ ملے
یہ میرا اور خدا کا معاملہ ہے حضور
یہ میری تجھ سے محبت اگر خطا ہے تو پھر
یہاں پہ حسنِ خطا کا معاملہ ہے حضور

Wednesday, 9 September 2020

آپ سمجھے ہو غلط یار نہیں چاہئے تھی

آپ سمجھے ہو غلط یار نہیں چاہیے تھی
سایہ درکار تھا، دیوار نہیں چاہیے تھی
باپ کے بعد مِرے سر جو سجائی گئی ہے
با خدا مجھ کو یہ دستار نہیں چاہیے تھی
اتنی جلدی مِرے بالوں میں سفیدی آئی
زندگی! تیری یہ رفتار نہیں چاہیے تھی

آنکھ اشک بہانے پہ ہے مامور من العشق

آنکھ اشک بہانے پہ ہے مامور من العشق
اور ہونٹ ہیں چپ رہنے پہ مجبور من العشق
دامن پہ تِرے داغِ محبت نہیں اک بھی
لگتا ہے میاں تُو مجھے مقہور من العشق
چلتی ہے اٹھا کر تِری خوشبوئے بدن کو
میری تو ہر اک سانس ہے مزدور من العشق