اک سانولے بدن سے محبت قبول کر
اے ربِ عشق! دل کی شہادت قبول کر
آنکھوں سے میری اس کے دوپٹے تک آیا ہے
اے ربِ درد! اشک کی ہجرت قبول کر
صحرا اگر نہیں ہے تو صحرا سے کم نہیں
دل نے ابھی بچھائی ہے جائے نمازِ عشق
لکنت زدہ زباں کی اقامت قبول کر
میں نے نماز چھوڑ کے اک جاں بچائی ہے
معبودِ لم یزل! یہ عبادت قبول کر
عمار یاسر مگسی
No comments:
Post a Comment