Saturday, 12 September 2020

اک سانولے بدن سے محبت قبول کر

اک سانولے بدن سے محبت قبول کر
اے ربِ عشق! دل کی شہادت قبول کر
آنکھوں سے میری اس کے دوپٹے تک آیا ہے
اے ربِ درد! اشک کی ہجرت قبول کر
صحرا اگر نہیں ہے تو صحرا سے کم نہیں
اے ربِ قیس! قلب کی وحشت قبول کر
دل نے ابھی بچھائی ہے جائے نمازِ عشق
لکنت زدہ زباں کی اقامت قبول کر
میں نے نماز چھوڑ کے اک جاں بچائی ہے
معبودِ لم یزل! یہ عبادت قبول کر

عمار یاسر مگسی

No comments:

Post a Comment