Saturday, 12 September 2020

اک لڑکی کے رخ پر کیا بیزاری ہے

اک لڑکی کے رخ پر کیا بے زاری ہے
پھولوں کو بھی کھلنے میں دشواری ہے
عشق میں جب بھی کوئی شخص اجڑتا ہے
لگتا ہے، اب اگلی میری باری ہے
اس سے پوچھو، خوابوں کا اب کیا ہو گا
دن میں جس نے مجھ پر نیند اتاری ہے
مرشد بس میں خود سے نفرت کرتا ہوں
مرشد مجھ کو سوچنے کی بیماری ہے
ڈوب رہے ہیں لوگ سمندر میں عمار
اس نے ان آنکھوں کی نقل اتاری ہے

عمار یاسر مگسی

No comments:

Post a Comment