Saturday, 12 September 2020

عجب صورت سے دل گھبرا رہا ہے

عجب صورت سے دل گھبرا رہا ہے
ہنسی کے ساتھ، رونا آ رہا ہے
مجھے دل سے بھلایا جا رہا ہے
پسینے پر پسینا آ رہا ہے
مروت شرط ہے اے یاد جاناں
تمناؤں کا جی گھبرا رہا ہے
مِری نیندیں تو آنکھوں سے اڑا دیں
مگر خود وقت سویا جا رہا ہے
ادب کر اے غمِ دوراں ادب کر
کسی کی یاد میں فرق آ رہا ہے
یہ آدھی رات یہ کافر اندھیرا
نہ سوتا ہوں نہ جاگا جا رہا ہے
ذرا دیکھو یہ سرکش ذرۂ خاک
فلک کا چاند بنتا جا رہا ہے
سراج اب دلکشی کیا زندگی میں
بہ مشکل وقت کاٹا جا رہا ہے

سراج لکھنوی​

No comments:

Post a Comment