جس بات کا خدشہ تھا وہی بات ہوئی ہے
گھر دور بہت دور ہے جب رات ہوئی ہے
تا حد نظر وادئ ویراں کی زمیں پر
کل رات مسلسل گھنی برسات ہوئی ہے
پہلے کبھی دیکھا تو نہیں ہے تمہیں لیکن
محسوس یہ ہوتا ہے ملاقات ہوئی ہے
جس بات کا خدشہ تھا وہی بات ہوئی ہے
گھر دور بہت دور ہے جب رات ہوئی ہے
تا حد نظر وادئ ویراں کی زمیں پر
کل رات مسلسل گھنی برسات ہوئی ہے
پہلے کبھی دیکھا تو نہیں ہے تمہیں لیکن
محسوس یہ ہوتا ہے ملاقات ہوئی ہے
حرف غزل کو درد میں ڈھلتے ہوئے بھی دیکھ
شہر سخن کی شمع پگھلتے ہوئے بھی دیکھ
خوشبو کے چند پھولوں کی ناکام آرزو
شہر وفا کی آگ میں جلتے ہوئے بھی دیکھ
جھلسے ہوئے خیال کے صحرا میں ڈوب جا
ذروں کی تہہ میں تشنگی جلتے ہوئے بھی دیکھ
کچھ روز ابھی ہم زندہ ہیں
کچھ روز ابھی ہم زندہ ہیں
کچھ روز اصولوں کی خاطر
ہم دنیا سے لڑ سکتے ہیں
پھر وقت کے ساتھ ہر شے میں
تبدیلی آ جاتی ہے
پتھر پر سبزہ اگتا ہے
لاکھ ہنس بول لیں ہم پھر بھی گلہ رہتا ہے
کوئی موسم ہو مگر زخم ہرا رہتا ہے
کچھ طبیعت کو ہے افسردہ دلی سے نسبت
اور کچھ رنج بھی اب دل کو سوا رہتا ہے
"کی مِرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ"
اب مِرے حق میں وہ مصروف دعا رہتا ہے