Showing posts with label رشید افروز. Show all posts
Showing posts with label رشید افروز. Show all posts

Tuesday, 16 December 2025

جس بات کا خدشہ تھا وہی بات ہوئی ہے

 جس بات کا خدشہ تھا وہی بات ہوئی ہے

گھر دور بہت دور ہے جب رات ہوئی ہے

تا حد نظر وادئ ویراں کی زمیں پر

کل رات مسلسل گھنی برسات ہوئی ہے

پہلے کبھی دیکھا تو نہیں ہے تمہیں لیکن

محسوس یہ ہوتا ہے ملاقات ہوئی ہے

Monday, 21 April 2025

حرف غزل کو درد میں ڈھلتے ہوئے بھی دیکھ

 حرف غزل کو درد میں ڈھلتے ہوئے بھی دیکھ

شہر سخن کی شمع پگھلتے ہوئے بھی دیکھ

خوشبو کے چند پھولوں کی ناکام آرزو

شہر وفا کی آگ میں جلتے ہوئے بھی دیکھ

جھلسے ہوئے خیال کے صحرا میں ڈوب جا

ذروں کی تہہ میں تشنگی جلتے ہوئے بھی دیکھ

Sunday, 16 October 2022

کچھ روز ابھی ہم زندہ ہیں

کچھ روز ابھی ہم زندہ ہیں


کچھ روز ابھی ہم زندہ ہیں

کچھ روز اصولوں کی خاطر

ہم دنیا سے لڑ سکتے ہیں

پھر وقت کے ساتھ ہر شے میں

تبدیلی آ جاتی ہے

پتھر پر سبزہ اگتا ہے

Monday, 20 June 2022

لاکھ ہنس بول لیں ہم پھر بھی گلہ رہتا ہے

لاکھ ہنس بول لیں ہم پھر بھی گلہ رہتا ہے

کوئی موسم ہو مگر زخم ہرا رہتا ہے

کچھ طبیعت کو ہے افسردہ دلی سے نسبت

اور کچھ رنج بھی اب دل کو سوا رہتا ہے

"کی مِرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ"

اب مِرے حق میں وہ مصروف دعا رہتا ہے