Showing posts with label جاوید احمد. Show all posts
Showing posts with label جاوید احمد. Show all posts

Friday, 2 August 2024

جو قطرہ قطرہ گرا دل پہ انگبین درود

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


جو قطرہ قطرہ گرا دل پہ انگبینِ درود

کہ شرح صدر ہوئی مل گیا یقینِ درود

یہ میری خاک پہ کیسی تجلیاں اتریں

فلک بھی رشک سے دیکھیں مِری زمینِ درود

میں وردِ جان کروں صبح شام نام اُن کا

فرشتے میری جبیں پر لکھیں جبینِ درود

Thursday, 9 December 2021

حنوط سلسلے رکھے ہوئے خیالوں کے

 حنوط سلسلے رکھے ہوئے خیالوں کے

عجائبات ہیں دل میں پری جمالوں کے

کہیں خموش کہیں گونجتے اندھیرے ہیں

بجھے چراغ ہیں ماتم کدے اجالوں کے

کہیں پہ آئینے حیرت کے انتظار میں ہیں

کہیں پہ سنگ بھی رکھے ہیں کچھ سوالوں کے

Thursday, 31 December 2020

دسمبر جاتے جاتے کہہ گیا ہے

 دسمبر جاتے جاتے کہہ گیا ہے

بہت کچھ نا مکمل رہ گیا ہے

بہت سے زخم سینے میں لگے ہیں

بہت سا خونِ نا حق بہہ گیا ہے

وہی قربت کے غم دوری کے صدمے

سلیقے سے یہ دل بھی سہہ گیا ہے

Tuesday, 10 January 2017

ستارے ہیں ابھی شب کے سفر میں

ستارے ہیں ابھی شب کے سفر میں 
کئی چہرے ہیں سوچوں کے بھنور میں
کبھی برسا تھا جو تلخابۂ ابر 
اسی کا رس رہا برگ و ثمر میں
جو پلکوں سے پلٹ جاتے ہیں آنسو 
لہو بن کر وہ رہتے ہیں جگر میں

لفظ کچھ میر کے اڑاتے ہیں

لفظ کچھ میر کے اڑاتے ہیں
شعر کی شاخ پر بٹھاتے ہیں
تتلیاں یاد کی جب آتی ہیں
درد کے پھول ہم کھلاتے ہیں
دل وغیرہ کا اب یہاں کیا کام 
رسم جینے کی ہم نبھاتے ہیں

Saturday, 7 January 2017

دل کو اس زلف کی زنجیر میں رکھے ہوئے ہیں

دل کو اس زلف کی زنجیر میں رکھے ہوئے ہیں 
یہ غمِ دل ہے، جو تحریر میں رکھے ہوئے ہیں 
چشمِ قاتل نے ہمیں خواب ہی کچھ ایسے دیئے 
خود کو ہم مقتلِ تعبیر میں رکھے ہوئے ہیں 
ان کی تصویر سے بھی آنکھ ملائی نہ گئی 
نِگہ زندہ وہ تصویر میں رکھے ہوئے ہیں 

صحرا اٹھا کے پھینک یہ دریا اٹھا کے پھینک

صحرا اٹھا کے پھینک یہ دریا اٹھا کے پھینک
موجود کا یہ سلسلہ سارا اٹھا کے پھینک
ترتیب کائنات کی کچھ اور ہی بنا 
بوسیدہ ہو گیا ہے یہ نقشہ اٹھا کے پھینک
سکے کھنک رہے ہیں عزازیل کے یہاں 
میرے خدا یہ کاسۂ دنیا اٹھا کے پھینک

جو اپنے ہونٹوں میں لفظ اس نے دبا لیا تھا

جو اپنے ہونٹوں میں لفظ اس نے دبا لیا تھا 
اسی سے میں نے غزل کا مطلع اٹھا لیا تھا
بڑی مہارت سے گفتگو میں ملا لیا تھا 
وہ جھوٹ جو اس نے آتے آتے بنا لیا تھا
مجھے پتہ تھا وہ کن ہواؤں میں اڑ رہا تھا 
سو میں نے بھی اپنے دل کی لو کو بڑھا لیا تھا

Wednesday, 4 January 2017

جس ستارے کا وہ حواری ہے

جس ستارے کا وہ حواری ہے 
اس سے میرے پرانی یاری ہے
کیا سروکار اس کو ماضی سے 
آئینہ حال کا پجاری ہے
یہ جو وحشت زدہ سی بیٹھی ہے 
یہ محبت ہوس کی ماری ہے

یہ جو ہم دوستی اٹھا لائے

یہ جو ہم دوستی اٹھا لائے
اصل میں دشمنی اٹھا لائے
ایک پل بھی خوشی کا جس میں نہیں 
ہم بھی کیا زندگی اٹھا لائے
اب جو فرصت نہیں ہے رونے سے 
کن لبوں کی ہنسی اٹھا لائے

بس اتنی سی مری تقدیر بدلی

بس اتنی سی مِری تقدیر بدلی 
کبھی زنداں کبھی زنجیر بدلی
نہ ان آنکھوں نے اپنے خواب بدلے 
نہ خوابوں نے کوئی زنجیر بدلی
کسی نے حسن کے بدلے معانی 
کسی نے عشق کی تفسیر بدلی

Friday, 30 December 2016

وحشت شب چراغوں میں ڈھلتی رہی

وحشتِ شب چراغوں میں ڈھلتی رہی 
روشنی رنگ اپنے بدلتی رہی
اس ستارے میں تھی بے کلی جس کی لو 
گاہے بجھتی رہی، گاہے جلتی رہی
اس کی دستار سورج نما تھی بہت
سامنے اک دِیے کے پگھلتی رہی

لے گئے وہ ساتھ اپنے حسن سارا شام کا

لے گئے وہ ساتھ اپنے حسن سارا شام کا 
ہجر کی تصویر ہے اب ہر نظارا شام کا 
خیمہ زن ہیں چاند کے رستے میں گہری بدلیاں 
آندھیوں کی زد میں ہے پہلا ستارا شام کا 
روشنی اور تیرگی کی سرحدیں تھامے ہوئے 
درمیاں دن رات کے بہتا ہے دھارا شام کا 

ہمارے دل میں جو کچھ تھا وہی دیوار و در میں ہے

ہمارے دل میں جو کچھ تھا وہی دیوار و در میں ہے
کہ اس دیوانگی کے عکس کا آئینہ، گھر میں ہے
ہم اپنی روشنی کی جستجو میں اب کہاں جائیں 
دِیے کی لو کہیں بھی ہو ہواؤں کی نظر میں ہے
سفر کا انت ہے، اب راستے معدوم ہیں سارے 
مگر تسکینِ دل کو کارواں اپنا سفر میں ہے

Wednesday, 28 December 2016

میان چشم و دل ہیں آتشیں موجوں کے دریا

میانِ چشم و دل ہیں آتشیں موجوں کے دریا 
سلگتے آنسوؤں میں ڈھل گئے یادوں کے دریا
رہی زیرِ قدم کیوں نیند میں بھی ارضِ وحشت 
تلاطم خیز تھے دل میں کئی خوابوں کے دریا
ٹھہرتی کیا نظر کوئی تڑپتے آئینے پر
پسِ آئینہ تھے زنگارئ پر خوں کے دریا

اپنے وجود کو کھلے پانی میں آ کے دیکھ

اپنے وجود کو کھلے پانی میں آ کے دیکھ
اے برف برف موج روانی میں آ کے دیکھ
اک بے کراں طلسم ہے بہتا ہوا خیال 
لفظوں کی آبجو کو معانی میں آ کے دیکھ
بے کیف و بے مراد ہے آزادئ عمل 
کردار کا جواز کہانی میں آ کے دیکھ

کسی کی سمت رہے رات پرفشاں مرے خواب

کسی کی سمت رہے رات پرفشاں مِرے خواب 
ستارے پھول ہوئے اور تتلیاں مرے خواب
یہ کیا سفر ہے کہ جس کا کوئی قیام نہیں 
زرا قدم جو رکے تو ہوئے رواں مرے خواب
غبار تھا، میں سدا کارواں سے دور رہا 
کہ شعلہ شعلہ تھی منزل دھواں دھواں مرے خواب

لکھا ہے امن کی اور جنگ کی تمثیل سے پہلے

لکھا ہے امن کی اور جنگ کی تمثیل سے پہلے
لہو کا ایک دریا ہے،۔ مِری تکمیل سے پہلے
کہا ں سے ہے کہاں تک یہ تِرے انکار کا ماضی
کہ وہ سیلِ بلا کیا تھا فرات و نیل سے پہلے 
ابھی تو روشنی کا سلسلہ آگے بڑھانا ہے 
تِرا ایواں لرزتا ہے ہر اک قندیل سے پہلے