عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جو قطرہ قطرہ گرا دل پہ انگبینِ درود
کہ شرح صدر ہوئی مل گیا یقینِ درود
یہ میری خاک پہ کیسی تجلیاں اتریں
فلک بھی رشک سے دیکھیں مِری زمینِ درود
میں وردِ جان کروں صبح شام نام اُن کا
فرشتے میری جبیں پر لکھیں جبینِ درود
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جو قطرہ قطرہ گرا دل پہ انگبینِ درود
کہ شرح صدر ہوئی مل گیا یقینِ درود
یہ میری خاک پہ کیسی تجلیاں اتریں
فلک بھی رشک سے دیکھیں مِری زمینِ درود
میں وردِ جان کروں صبح شام نام اُن کا
فرشتے میری جبیں پر لکھیں جبینِ درود
حنوط سلسلے رکھے ہوئے خیالوں کے
عجائبات ہیں دل میں پری جمالوں کے
کہیں خموش کہیں گونجتے اندھیرے ہیں
بجھے چراغ ہیں ماتم کدے اجالوں کے
کہیں پہ آئینے حیرت کے انتظار میں ہیں
کہیں پہ سنگ بھی رکھے ہیں کچھ سوالوں کے
دسمبر جاتے جاتے کہہ گیا ہے
بہت کچھ نا مکمل رہ گیا ہے
بہت سے زخم سینے میں لگے ہیں
بہت سا خونِ نا حق بہہ گیا ہے
وہی قربت کے غم دوری کے صدمے
سلیقے سے یہ دل بھی سہہ گیا ہے