Tuesday, 10 January 2017

ستارے ہیں ابھی شب کے سفر میں

ستارے ہیں ابھی شب کے سفر میں 
کئی چہرے ہیں سوچوں کے بھنور میں
کبھی برسا تھا جو تلخابۂ ابر 
اسی کا رس رہا برگ و ثمر میں
جو پلکوں سے پلٹ جاتے ہیں آنسو 
لہو بن کر وہ رہتے ہیں جگر میں
کبھی آفاقِ نادیدہ کے بھی رنگ 
اترتے ہیں مِری حدِ نظر میں
ہوا ہے دھوپ سے احساس ورنہ
کوئی سایہ نہیں ہوتا شجر میں
پرندے زخم کچھ پچھلی رتوں کے 
چھپائے پھر رہے ہیں بال و پر میں
نگاہوں میں ابھی تک ہے وہ منظر 
ستارہ جس طرح دامِ سحر میں

جاوید احمد

No comments:

Post a Comment