شوخی نے تیری کام کیا اک نگاہ میں
صوفی ہے بتکدے میں صنم خانقاہ میں
آنکھیں بچھائیں ہم تو عدو کی بھی راہ میں
پر کیا کریں، کہ تُو ہے ہماری نگاہ میں
بڑھتا ہوں آگے پوچھ کر اس سے مقامِ عشق
دل میں سما گئی ہیں قیامت کی شوخیاں
دو چار دن رہا تھا کسی کی نگاہ میں
راتیں مصیبتوں کی جو گزریں تھیں آج تک
ماتم میں آئے ہیں مِرے روزِ سیاہ میں
اس توبہ پر ہے نار تجھے زاہد! اس قدر
جو ٹوٹ کر شریک ہو میرے گناہ میں
آتی ہے بات بات مجھے یاد بار بار
کہتا ہوں دوڑ دوڑ کے قاصد سے راہ میں
تاثیربچ کے سنگِ حوادث سے آئے کیا
میری دعا بھی ٹھوکریں کھاتی ہے راہ میں
کیسا نظارہ، کس کا اشارہ، کہاں کی بات
سب کچھ ہے اور کچھ نہیں نیچی نگاہ میں
جو کینہ آج ہے تِرے دل میں ستم شعار
جاۓ گا کل یہی تو دلِ داد خواہ میں
مشتاق اس صدا کے بہت درد مند تھے
اے داغ! تم تو بیٹھ گئے ایک آہ میں
داغ دہلوی
No comments:
Post a Comment