Sunday, 22 January 2017

شوخی نے تیرے کام کیا اک نگاہ میں

شوخی نے تیری کام کیا اک نگاہ میں
صوفی ہے بتکدے میں صنم خانقاہ میں
آنکھیں بچھائیں ہم تو عدو کی بھی راہ میں
پر کیا کریں، کہ تُو ہے ہماری نگاہ میں
بڑھتا ہوں آگے پوچھ کر اس سے مقامِ عشق
جو فتنہ مجھ غریب کو ملتا ہے راہ میں
دل میں سما گئی ہیں قیامت کی شوخیاں
دو چار دن رہا تھا کسی کی نگاہ میں
راتیں مصیبتوں کی جو گزریں تھیں آج تک
ماتم میں آئے ہیں مِرے روزِ سیاہ میں
اس توبہ پر ہے نار تجھے زاہد! اس قدر
جو ٹوٹ کر شریک ہو میرے گناہ میں
آتی ہے بات بات مجھے یاد بار بار
کہتا ہوں دوڑ دوڑ کے قاصد سے راہ میں
تاثیربچ کے سنگِ حوادث سے آئے کیا
میری دعا بھی ٹھوکریں کھاتی ہے راہ میں
کیسا نظارہ، کس کا اشارہ، کہاں کی بات
سب کچھ ہے اور کچھ نہیں نیچی نگاہ میں
جو کینہ آج ہے تِرے دل میں ستم شعار
جاۓ گا کل یہی تو دلِ داد خواہ میں
مشتاق اس صدا کے بہت درد مند تھے
اے داغ! تم تو بیٹھ گئے ایک آہ میں

داغ دہلوی

No comments:

Post a Comment