مُدتوں سے جمی برف کے جونہی تودے پِگھلنے لگے
گہرے نمکین پانی جہازوں کے پیندے نِگلنے لگے
میں کہیں بیٹھ کر بِیتے لمحوں کو تسبیح کرتا رہا
اور آنکھوں کی تہہ میں چُھپے رنگ پرتیں بدلنے لگے
تیز آندھی کسی موج میں میرے آثار کو چُھو گئی
اور کسی عہد کے کتنے متروک معبد نِکلنے لگے