Showing posts with label قاسم حیات. Show all posts
Showing posts with label قاسم حیات. Show all posts

Tuesday, 24 October 2023

مدتوں سے جمی برف کے جونہی تودے پگھلنے لگے

 مُدتوں سے جمی برف کے جونہی تودے پِگھلنے لگے

گہرے نمکین پانی جہازوں کے پیندے نِگلنے لگے

میں کہیں بیٹھ کر بِیتے لمحوں کو تسبیح کرتا رہا

اور آنکھوں کی تہہ میں چُھپے رنگ پرتیں  بدلنے لگے

تیز آندھی کسی موج میں میرے آثار کو چُھو گئی

اور کسی عہد کے کتنے متروک معبد نِکلنے لگے

Monday, 26 September 2022

وہ جسم کھلتا گیا مجھ پہ التفات کے ساتھ

 وہ جسم کُھلتا گیا مجھ پہ التفات کے ساتھ

میں چُھو رہا تھا شبِ وصل احتیاط کے ساتھ

یہ اعتدال میرے جسم میں کہاں آیا

تمہیں بھی دل میں رکھا خلفشارِ ذات کے ساتھ

شمار کرنا تھا اشیائے رفتگاں کو مجھے

سو میں نے رکھی اداسی تبرّکات کے ساتھ

Wednesday, 9 February 2022

قبول کرتے ہوئے اجتناب کرتے ہوئے

 قبول کرتے ہوئے، اجتناب کرتے ہوئے

کوئی خلش سی رہی انتخاب کرتے ہوئے

کچھ اتنا فاصلہ تھا مجھ میں اور قافلے میں

سفر تمام ہوا ہمرکاب کرتے ہوئے

یہ کس کا نام ابھرنے لگا ہے کاغذ پر

بیاضِ عمر تیرا انتساب کرتے ہوئے

Friday, 26 March 2021

یہ پیاس بجھتی نہیں تھی چناب رکھتے تھے

 یہ پیاس بجھتی نہیں تھی، چناب رکھتے تھے

ہم اپنے دشت میں کیا کیا سراب رکھتے تھے

سمے کی رو میں بہے جا رہے ہیں ایک ہی سمت

گئے وہ دن، کہ دنوں کا حساب رکھتے تھے

جنوں کے ساتھ خرد بھی سرشت میں رکھی

سلیقہ بھی تِرے خانہ خراب رکھتے تھے

Friday, 13 November 2020

ایک تالاب ہے جو کائی سے بھر جائے گا

 ایک تالاب ہے جو کائی سے بھر جائے گا

میرا کمرہ، مری تنہائی سے بھر جائے گا

دور تک پھیلا ہوا دل کا یہ خالی منظر

دیکھتے رہئے کہ بینائی سے بھر جائے گا

پیڑ کی کھردری تہہ بیل سے چھپ جائے گی

زخم ہے، اور مسیحائی سے بھر جائے گا