ایک تالاب ہے جو کائی سے بھر جائے گا
میرا کمرہ، مری تنہائی سے بھر جائے گا
دور تک پھیلا ہوا دل کا یہ خالی منظر
دیکھتے رہئے کہ بینائی سے بھر جائے گا
پیڑ کی کھردری تہہ بیل سے چھپ جائے گی
زخم ہے، اور مسیحائی سے بھر جائے گا
جیسے میں اترا ہوں دریاؤں کی گہرائی میں
مجھ میں پانی اسی گہرائی سے بھر جائے گا
اجنبیت کا خلا ہے جو ہمارے مابین
ایک دن رنگِ شناسائی سے بھر جائے گا
قاسم حیات
No comments:
Post a Comment