Friday, 13 November 2020

ہونٹوں پر صحرا رہتا ہے آنکھ میں کھارا پانی

ہونٹوں پر صحرا رہتا ہے آنکھ میں کھارا پانی

ایک کنارا آگ ہے میرا، ایک کنارہ پانی

سُوکھے پیڑ اور پیاسی آنکھیں آسمان کو دیکھیں

مٹی میں جا کر چھپ بیٹھا، دھوپ کا مارا پانی

چاک کی اس گردش نے ماہ و سال لپیٹ لیے

کوزہ گر کی ساری پونجی مٹی، گارا، پانی

آتش گیر مسافت ہے اور اک رِستا مشکیزہ

کب تک ساتھ رہے گا آخر یہ بے چارہ پانی

آنکھ کے بہتے اشکوں سے ہی پیاس بجھانی ہو گی

ہجر کے تپتے صحرا میں یہی ایک سہارا پانی

قطرہ قطرہ شبنم سے بھی پیاس کہاں بجھتی ہے

سُوکھی شاخ پہ آسمان نے خوب اتارا پانی

کون گلی سے گزروں اور میں کیسے تجھ تک آؤں

بستی ساری دلدل ہے،۔ اور رستہ سارا پانی

صحرا کو ہے یاد ابھی تک پیاس کی پہلی جیت

ظلم کو کیسے مات ہوئی، اور کیسے ہارا پانی


زرنین علی 

No comments:

Post a Comment