Showing posts with label حافظ نعمان. Show all posts
Showing posts with label حافظ نعمان. Show all posts

Tuesday, 6 February 2024

محمد جس کے نانا ہیں حسین ابن علی ہیں وہ

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


محمدؐ جس کے نانا ہیں حسینؑ ابن علیؑ ہیں وہ

شہیدوں میں شہنشاہ ہیں حسینؑ ابن علیؑ ہیں وہ

وہاں پر کربلا میں بھی بنائی صف نمازوں کی

حُکم پُورا کِیا جس نے حسینؑ ابن علیؑ ہیں وہ

شہیدوں کی شہادت پر میری بہنا نہیں رونا

کہا جس نے یہ زینبؑ سے حسینؑ ابن علیؑ ہیں وہ

Saturday, 3 February 2024

یہ سردیوں کے شروع میں اکثر ہوا میں خنکی

وہ اب کہاں ہے


یہ سردیوں کے شروع میں اکثر

ہوا میں خُنکی یہ بوندا باندی

تمہاری یادوں کو لا کے آنکھیں 

بھگو کے کہتی ہیں؛ تم یہیں ہو

میں ایک دم سے یقین کر کے 

کبھی ہوا سے کبھی برستی وہ ہلکی بارش سے پوچھتا ہوں

Sunday, 26 June 2022

آنکھ مائل ہو جب نمی کی طرف

 آنکھ مائل ہو جب نمی کی طرف

کیسے جائے کوئی خوشی کی طرف

گر یہ مُمکن ہُوا تو وعدہ ہے

لوٹ آئیں گے زندگی کی طرف

روز دل کو لگام ڈالتا ہوں

روز جاتا ہے خُودکشی کی طرف

Wednesday, 16 December 2020

تھا اک سولہ دسمبر آسماں روشن بھی تھوڑا تھا

تھا اک سولہ دسمبر آسماں روشن بھی تھوڑا تھا

ہوا بھی سرد تھی موسم نے بھی کچھ رنگ اوڑھا تھا

یہ تھا سُورج قیامت کا، یا اک آفت تھی نا معلوم؟

کہ جس نے شام تک امن و اماں کے رُخ کو موڑا تھا

نہیں معلوم تھا اس دن کہ کیا کچھ ہونے والا ہے

سنوارا تھا سبھی کو ماں نے پھر سکول چھوڑا تھا