مر ہی جاؤں جو مِلے موت قرینے والی
زندگی تو مجھے لگتی نہیں جینے والی
حضرتِ شیخ نے پابند کیا ہے، ورنہ
ایک ہی چیز مجھے لگتی ہے پینے والی
یہ مِرے سارے گھرانے کے لیے کافی ہے
یہ کمائی ہے مِرے خون پسینے والی
مر ہی جاؤں جو مِلے موت قرینے والی
زندگی تو مجھے لگتی نہیں جینے والی
حضرتِ شیخ نے پابند کیا ہے، ورنہ
ایک ہی چیز مجھے لگتی ہے پینے والی
یہ مِرے سارے گھرانے کے لیے کافی ہے
یہ کمائی ہے مِرے خون پسینے والی
لبوں پہ شکوۂ ایام بھی نہیں ہوتا
زباں پہ اب تو تِرا نام بھی نہیں ہوتا
کبھی کبھی اسے سوچوں تو سوچ لیتا ہوں
کبھی کبھار یہ اک کام بھی نہیں ہوتا
یہ میکدہ ہے نہیں مے کشو یہ دھوکا ہے
یہاں تو نشہ تہہِ جام بھی نہیں ہوتا
نقیب بخت سارے سو چکے ہیں
بالآخر بے سہارے سو چکے ہیں
کسی سے خواب میں ملنا ہے شاید
کہ وہ گیسو سنوارے سو چکے ہیں
مجھے بھی خود سے وحشت ہو رہی ہے
سبھی جذبے تمہارے سو چکے ہیں
اس بہانے کے بعد کیسا عشق
بھول جانے کے بعد کیسا عشق
یعنی تم مجھ کو آزماؤ گے
آزمانے کے بعد کیسا عشق
ضبط تو اصل ہے محبت کی
غم جتانے کے بعد کیسا عشق
پیش وہ ہر پل ہے صاحب
پھر بھی اوجھل ہے صاحب
آدھی ادھوری دنیا میں
کون مکمل ہے صاحب
آج تو پل پل مرنا ہے
جینا تو کل ہے صاحب