Showing posts with label وقار سحر. Show all posts
Showing posts with label وقار سحر. Show all posts

Thursday, 25 February 2021

مر ہی جاؤں جو ملے موت قرینے والی

 مر ہی جاؤں جو مِلے موت قرینے والی

زندگی تو مجھے لگتی نہیں جینے والی

حضرتِ شیخ نے پابند کیا ہے، ورنہ

ایک ہی چیز مجھے لگتی ہے پینے والی

یہ مِرے سارے گھرانے کے لیے کافی ہے

یہ کمائی ہے مِرے خون پسینے والی

Tuesday, 23 February 2021

لبوں پہ شکوۂ ایام بھی نہیں ہوتا

 لبوں پہ شکوۂ ایام بھی نہیں ہوتا

زباں پہ اب تو تِرا نام بھی نہیں ہوتا

کبھی کبھی اسے سوچوں تو سوچ لیتا ہوں

کبھی کبھار یہ اک کام بھی نہیں ہوتا

یہ میکدہ ہے نہیں مے کشو یہ دھوکا ہے

یہاں تو نشہ تہہِ جام بھی نہیں ہوتا

Saturday, 20 February 2021

نقیب بخت سارے سو چکے ہیں

 نقیب بخت سارے سو چکے ہیں

بالآخر بے سہارے سو چکے ہیں

کسی سے خواب میں ملنا ہے شاید

کہ وہ گیسو سنوارے سو چکے ہیں

مجھے بھی خود سے وحشت ہو رہی ہے

سبھی جذبے تمہارے سو چکے ہیں

Monday, 15 February 2021

اس بہانے کے بعد کیسا عشق

 اس بہانے کے بعد کیسا عشق

بھول جانے کے بعد کیسا عشق

یعنی تم مجھ کو آزماؤ گے

آزمانے کے بعد کیسا عشق

ضبط تو اصل ہے محبت کی

غم جتانے کے بعد کیسا عشق

Sunday, 14 February 2021

پیش وہ ہر پل ہے صاحب

 پیش وہ ہر پل ہے صاحب

پھر بھی اوجھل ہے صاحب

آدھی ادھوری دنیا میں

کون مکمل ہے صاحب 

آج تو پل پل مرنا ہے

جینا تو کل ہے صاحب