Monday, 3 August 2026

بہت سردی ہے اپنی سرد مہری چھوڑ دو

 حِدتیں دم توڑتی ہیں


 بہت سردی ہے

اپنی سرد مہری چھوڑ دو 

جانے بھی دو شِکوے گِلے

کوتاہیاں انسان کی فطرت میں شامل ہیں 

سنو! سردی ہے

سردی میں ہر اک شے منجمد ہے

اور ایسے میں اگر 

جذبوں میں رہتی حِدتیں دم توڑ دیں 

وحشتیں در کھول دیں

تو کیونکر زندگی ہو گی 

تم اپنے دل کا آئینہ

کسی بھی ناروا برتاؤ سے

گدلا نہ ہونے دو

اسے شفاف رہنے دو 

تمہیں جیون کے بحرِ بیکراں میں 

دور تک بہتے ہی جانا ہے 

یہ سردی، زرد اور یخ بستہ جذبوں کو

جِلا دینے کا اک پیغام لاتی ہے 

مگر تم نے تو ہر در کو مقفّل کر دیا ہے

 دستکیں دے دے کے  جاڑا تھک گیا ہے

تم اپنے من کے دروازوں کو کھولو

انہیں حِدت سے گرماؤ

کہ جاڑا جاں بلب ہے 

اور اس کی سانس کی آواز یاں تک آ رہی ہے 

اس سے پہلے کہ محبت آخری ہِچکی بھرے

تم اپنی سرد مہری چھوڑ دو

جانے بھی دو 

اسے اب اِلوداع کہہ دو


نوشابہ حفیظ ہاشمی

No comments:

Post a Comment