تم نے آواز مجھ کو دی شاید
دل کی دنیا بدل گئی شاید
مل گئے تم تو یوں ہوا محسوس
مل گئی مجھ کو زندگی شاید
ہر تمنا ہے خوشگوار مگر
غم کی تمہید ہے یہی شاید
کھل سکا آج تک نہ رازِ حیات
اِک معمہ ہے زندگی شاید
زاہد اس بارگاہ میں مجھ کو
لے گئی میری بیخودی شاید
زاہد فتح پوری
No comments:
Post a Comment