Friday, 7 August 2026

آج پھر گھات میں بیٹھا ہے سمندر کا سکوت

 سمندر کا سکوت


آج پھر گھات میں بیٹھا ہے سمندر کا سکوت

ہم کو اک دوسرے سے دور ہی رہنا ہو گا

ہم کو ہر حال میں مجبور ہی رہنا ہو گا

مجھ کو اس دور جراحت سے گزر جانے دے

مجھ کو جینے کی تمنا نہیں مر جانے دے

میری تقدیر میں غم ہیں تو کوئی بات نہیں

مجھ کو ظُلمت کی گُپھاؤں میں اُتر جانے دے

تُو نہ گھبرا کہ تِرے حُسن کی مشعل لے کر

تیرے ہمراہ کبھی تیرے بچھونے کے قریب

رات بھر دُھوم مچائے گا مِرے جسم کا بھوت

آج پھر گھات میں بیٹھا ہے سمندر کا سکوت

ظرف باقی نہ کوئی عزم نہاں باقی ہے

صرف احساس کے چہرے پہ دُھواں باقی ہے

کوئی سایہ ہے نہ ساتھی ہے نہ محفل کوئی

دلکشی ختم ہے پھر کیوں یہ جہاں باقی ہے

یہ جہاں جس میں سب اطراف تباہی کے نشاں

صورت و شکل پہ زخموں کی طرح پھیلے ہیں

اور ہر زخم ہے انسان کی وحشت کا ثبوت

آج پھر گھات میں بیٹھا ہے سمندر کا سکوت

تلخ تنہائی کا اک درد لیے چہرے پر

لے کے پھرتا ہوں میں زخموں کے دیے چہرے پر

رُوح مجروح، جبیں زخم زدہ، دل گھائل

پھر بھی ہنستا ہوں نئی آس لیے چہرے پر

زندگی ہے کہ کسی شاہ کی بیگم جس کو

وقت بازار میں لایا ہے برہنہ کر کے

اور خاموش ہیں تہذیب و تمدن کے سپوت

آج پھر گھات میں بیٹھا ہے سمندر کا سکوت

وقت کہتا ہے ہمیں دُور ہی رہنا ہو گا

ہم کو ہر حال میں مجبور ہی رہنا ہو گا


چندربھان خیال

No comments:

Post a Comment