دل تباہی کا پتہ دیتا ہے
کوئی شعلوں کو ہوا دیتا ہے
جب حسیں خواب میسر آئے
کوئی زنجیر ہِلا دیتا ہے
کوئی پلکوں سے اُٹھاتا ہے مجھے
کوئی نظروں سے گِرا دیتا ہے
آج ماضی کے دُھندلکے سے مجھے
کیا خبر کون صدا دیتا ہے
وہ جو جلوہ ہے نظر سے پنہاں
کتنے چہروں کو ضیا دیتا ہے
موسمِ گُل میں تبسم گُل کا
تیرے ہونے کا پتہ دیتا ہے
سید معراج جامی
No comments:
Post a Comment