Wednesday, 12 August 2026

دل تباہی کا پتہ دیتا ہے

 دل تباہی کا پتہ دیتا ہے

کوئی شعلوں کو ہوا دیتا ہے

جب حسیں خواب میسر آئے

کوئی زنجیر ہِلا دیتا ہے

کوئی پلکوں سے اُٹھاتا ہے مجھے

کوئی نظروں سے گِرا دیتا ہے

آج ماضی کے دُھندلکے سے مجھے

کیا خبر کون صدا دیتا ہے

وہ جو جلوہ ہے نظر سے پنہاں

کتنے چہروں کو ضیا دیتا ہے

موسمِ گُل میں تبسم گُل کا

تیرے ہونے کا پتہ دیتا ہے


سید معراج جامی

No comments:

Post a Comment