نئی صدی کے تقاضوں کا سامنا کرنا
پھر اس کے بعد وفا کا مطالبہ کرنا
لگام دوں اسے کیسے زبان ان پڑھ ہے
اسے تو آتا ہے سچ بات برملا کرنا
نئے زمانے کے بچوں کی شوخیاں دیکھو
شرارتوں میں بڑوں کا مقابلہ کرنا
غرض کی اس میں حرارت ہے یا ہے سچی لگن
کسی کے پیار کا پہلے مطالعہ کرنا
تعصب اپنے پرائے کا دل میں آئے کیوں
جو حق ہو جس کا خوشی سے اسے ادا کرنا
محافظوں کو کرو پیش پیار کی خوشبو
کبھی نہ جنگ کا ان سے مطالبہ کرنا
جھکاؤ سر نہ ستم گر کے سامنے نیر
ہمیشہ ڈٹ کے ستم کا مقابلہ کرنا
نیر گنگوہی
سعید احمد قریشی
No comments:
Post a Comment