مسرّت چیز کیا ہے رنج کیا ہے
یہ سارا کھیل اک احساس کا ہے
بہار زندگی کہتے ہیں جس کو
کسی کے اک تبسّم کی ضیا ہے
خطائے بے وفائی اور ہم سے
یقیناً آپ کو دھوکا ہوا ہے
ابھی بدلی نہیں انساں کی فطرت
یہ اب بھی دُشمن مہر و وفا ہے
کسی کے جور کا حد سے گُزرنا
ہماری خامشی کی انتہا ہے
کسی کی بزم تک ہو کیا رسائی
مقدّر ہی ہمارا نارسا ہے
اسے کیا واسطہ دَیر و حرم سے
وہ جس نے رازِ اُلفت پا لیا ہے
ہزاروں راحتیں اس پر نِچھاور
تمہارا غم جسے راس آ گیا ہے
کبھی سُنتے نہیں ہیں آپ ورنہ
ہمارے دل میں بھی اک مُدعا ہے
میں ان کو پُوجتا ہوں جاں سے دل سے
وہ جن کے دل میں احساسِ وفا ہے
تلاطم خیز موجوں سے گُزر جا
لبِ ساحل کھڑا کیا سوچتا ہے
ہمیں مُطلق نہیں احساس عاصی
ہماری زندگی بے آسرا ہے
پنڈت ودیا رتن عاصی
No comments:
Post a Comment