Thursday, 13 August 2026

ظاہر تو کوئی غم کی علامت نہ ملے گی

 ظاہر تو کوئی غم کی علامت نہ ملے گی

چہروں پہ جو ہوتی ہے بشاشت نہ ملے گی

انصاف جہاں ہو وہ عدالت نہ ملے گی

اس شہر میں کوئی بھی شہادت نہ ملے گی

مانگے کا اُجالا تمہیں مِل جائے گا لوگو

آنکھوں کو مگر اس سے بصارت نہ ملے گی

عظمت کے لیے چاہیے کردار بھی اچھا

اس جُبہ و دستار سے عزت نہ ملے گی

پھُولوں میں نظر آئے گا اندازِ تبسم

کانٹوں میں مگر تم کو لطافت نہ ملے گی

کھا جائیں گے ان کو رہِ منزل کے اندھیرے

جب قافلے والوں کو قیادت نہ ملے گی

جامی! کوئی تدبیر اُبھرنے کی کرو اب

بونوں کے نگر میں تمہیں قامت نہ ملے گی


سید معراج جامی

No comments:

Post a Comment