ظاہر تو کوئی غم کی علامت نہ ملے گی
چہروں پہ جو ہوتی ہے بشاشت نہ ملے گی
انصاف جہاں ہو وہ عدالت نہ ملے گی
اس شہر میں کوئی بھی شہادت نہ ملے گی
مانگے کا اُجالا تمہیں مِل جائے گا لوگو
آنکھوں کو مگر اس سے بصارت نہ ملے گی
عظمت کے لیے چاہیے کردار بھی اچھا
اس جُبہ و دستار سے عزت نہ ملے گی
پھُولوں میں نظر آئے گا اندازِ تبسم
کانٹوں میں مگر تم کو لطافت نہ ملے گی
کھا جائیں گے ان کو رہِ منزل کے اندھیرے
جب قافلے والوں کو قیادت نہ ملے گی
جامی! کوئی تدبیر اُبھرنے کی کرو اب
بونوں کے نگر میں تمہیں قامت نہ ملے گی
سید معراج جامی
No comments:
Post a Comment