خوابِ شیریں ہی کُل اثاثہ ہے
اور حقیقت فقط تماشہ ہے
کل تلک یہ بھی ٹوٹ جائے گا
اک بھرم جو نیا تراشہ ہے
ہر گھڑے میں بھرے ہیں کچھ کنکر
اور ہر اک پرندہ پیاسا ہے
بیکراں آسماں کو تکتے ہیں
زندگی کا یہی خلاصہ ہے
یاں فقیروں کے ہاتھ میں اکثر
حاکمِ شہر کا ہی کاسہ ہے
ناصحا! چارہ گر، ذرا بتا آج
بے وفائی کا کیا دِلاسہ ہے؟
گردشِ دوراں کی ہواؤں میں
جلتا، بُجھتا، یہ دل دِیا سا ہے
نوشین راؤ
No comments:
Post a Comment