Wednesday, 19 August 2026

خود اپنے آپ کو زنجیر کرتا رہتا ہے

 خود اپنے آپ کو زنجیر کرتا رہتا ہے

وہ میرے خواب کی تعبیر کرتا رہتا ہے

عجب نہیں کہ اسے میری آرزو ہی نہ ہو

کہ اب وہ آنے میں تاخیر کرتا رہتا ہے

نئے مکان کی وسعت نہ اس کو راس آئی

وہ اب بھی ذہن میں تصویر کرتا رہتا ہے

قلم اٹھانے کی تحریک بھی اسی نے دی

اور اب وہی ہے کہ تعزیر کرتا رہتا ہے

عیوب اپنے چھپاؤ گے کس طرح بسمل

وہ روز نامچہ تحریر کرتا رہتا ہے


بسمل عارفی

No comments:

Post a Comment