Saturday, 15 August 2026

خون کی ندی بھی ہم نے پار کی

 خون کی ندی بھی ہم نے پار کی

ہم سے باتیں کر رہے ہو دار کی

ہے یہاں کانٹوں سے اپنا واسطہ

کر رہا ہوں بات میں گُلزار کی

اک غریبِ شہر کو حق مل گیا

یہ خبر ہو گی کسی اخبار کی

عدل کی زنجیر کو مت چھیڑئیے

کون سُنتا ہے یہاں نادار کی


غفار بابر

No comments:

Post a Comment