Showing posts with label کرامت علی. Show all posts
Showing posts with label کرامت علی. Show all posts

Friday, 6 March 2026

جو لمحے ٹوٹ چکے ان کو جوڑتے کیوں ہو

 جو لمحے ٹوٹ چکے ان کو جوڑتے کیوں ہو

یہ جڑ گئے تو انہیں پھر سے توڑتے کیوں ہو

مزاج شمس بدل جائے گا تو کیا ہو گا؟

جو ذرے سوئے ہیں ان کو جھنجوڑتے کیوں ہو

کب آنسوؤں سے مٹا ہے شگاف آئینہ

جو شیشہ ٹوٹ چکا اس کو جوڑتے کیوں ہو

Thursday, 15 August 2024

جو نام سب سے ہو پیارا اسے مکان پہ لکھ

 جو نام سب سے ہو پیارا اسے مکان پہ لکھ

بدن کی حد سے گزر اور اس کو جان پہ لکھ

بجا ہے کرتے ہیں پانی پہ دستخط سب لوگ

جو حوصلہ ہے تو نام اپنا آسمان پہ لکھ

تو لکھنے بیٹھا ہے میرے خلوص کا قصہ

یقین پر نہیں لکھتا نہ لکھ گمان پہ لکھ

Thursday, 9 December 2021

مری گردن پہ گرتے ہیں تو خنجر ٹوٹ جاتے ہیں

مِری گردن پہ گِرتے ہیں تو خنجر ٹُوٹ جاتے ہیں

جو دُشمن مجھ سے ٹُکراتے ہیں اکثر ٹُوٹ جاتے ہیں

کبھی ساحل سے ٹکرا کر مِری کشتی بکھرتی ہے

کبھی کشتی سے ٹکرا کر سمندر ٹوٹ جاتے ہیں

اک ایسا دور بھی آتا ہے کوشش کے علاقے میں

عمل بے کار ہوتا ہے، مقدر ٹوٹ جاتے ہیں

Wednesday, 2 December 2020

روبرو غم کے یہ تقدیر کہاں سے آئی

روبرو غم کے یہ تقدیر کہاں سے آئی

اور ہتھیلی کی یہ تحریر کہاں سے آئی

دل کے گوشے میں جسے میں نے چھپا رکھا تھا

تیرے البم میں وہ تصویر کہاں سے آئی

دبی خواہش کا تھا اظہار تماشہ گویا

خواب تھا خواب یہ تعبیر کہاں سے آئی