جو لمحے ٹوٹ چکے ان کو جوڑتے کیوں ہو
یہ جڑ گئے تو انہیں پھر سے توڑتے کیوں ہو
مزاج شمس بدل جائے گا تو کیا ہو گا؟
جو ذرے سوئے ہیں ان کو جھنجوڑتے کیوں ہو
کب آنسوؤں سے مٹا ہے شگاف آئینہ
جو شیشہ ٹوٹ چکا اس کو جوڑتے کیوں ہو
جو لمحے ٹوٹ چکے ان کو جوڑتے کیوں ہو
یہ جڑ گئے تو انہیں پھر سے توڑتے کیوں ہو
مزاج شمس بدل جائے گا تو کیا ہو گا؟
جو ذرے سوئے ہیں ان کو جھنجوڑتے کیوں ہو
کب آنسوؤں سے مٹا ہے شگاف آئینہ
جو شیشہ ٹوٹ چکا اس کو جوڑتے کیوں ہو
جو نام سب سے ہو پیارا اسے مکان پہ لکھ
بدن کی حد سے گزر اور اس کو جان پہ لکھ
بجا ہے کرتے ہیں پانی پہ دستخط سب لوگ
جو حوصلہ ہے تو نام اپنا آسمان پہ لکھ
تو لکھنے بیٹھا ہے میرے خلوص کا قصہ
یقین پر نہیں لکھتا نہ لکھ گمان پہ لکھ
مِری گردن پہ گِرتے ہیں تو خنجر ٹُوٹ جاتے ہیں
جو دُشمن مجھ سے ٹُکراتے ہیں اکثر ٹُوٹ جاتے ہیں
کبھی ساحل سے ٹکرا کر مِری کشتی بکھرتی ہے
کبھی کشتی سے ٹکرا کر سمندر ٹوٹ جاتے ہیں
اک ایسا دور بھی آتا ہے کوشش کے علاقے میں
عمل بے کار ہوتا ہے، مقدر ٹوٹ جاتے ہیں
روبرو غم کے یہ تقدیر کہاں سے آئی
اور ہتھیلی کی یہ تحریر کہاں سے آئی
دل کے گوشے میں جسے میں نے چھپا رکھا تھا
تیرے البم میں وہ تصویر کہاں سے آئی
دبی خواہش کا تھا اظہار تماشہ گویا
خواب تھا خواب یہ تعبیر کہاں سے آئی