Friday, 6 March 2026

جو لمحے ٹوٹ چکے ان کو جوڑتے کیوں ہو

 جو لمحے ٹوٹ چکے ان کو جوڑتے کیوں ہو

یہ جڑ گئے تو انہیں پھر سے توڑتے کیوں ہو

مزاج شمس بدل جائے گا تو کیا ہو گا؟

جو ذرے سوئے ہیں ان کو جھنجوڑتے کیوں ہو

کب آنسوؤں سے مٹا ہے شگاف آئینہ

جو شیشہ ٹوٹ چکا اس کو جوڑتے کیوں ہو

یہ ریت ہے یہاں مٹ جائیں گے تمام نقوش

تم اپنا نقش قدم اس پہ چھوڑتے کیوں ہو

تمہاری سمت زمانہ بالآخر آئے گا

تم اپنی فکر کی سمتوں کو موڑتے کیوں ہو

تمہاری آنکھوں نے بخشی ہے گل کو نمکینی

تم اپنی آنکھوں میں جلوے نچوڑتے کیوں ہو

کرامت ایسے میں سانسوں کا حال کیا ہو گا؟

سسکتے لمحوں کی گردن مروڑتے کیوں ہو


کرامت علی کرامت

No comments:

Post a Comment