ایسی مطلب پرست دنیا میں
کیوں کسی سے وفا کی ہو امید
چارہ گر اس نگر ملے کیونکر؟
درد کو اس نگر دوا کیوں ہو؟
یہ علاقہ ہے زیر دستوں کا
زیر دستوں سے التجا کیوں ہو؟
جبکہ رقصاں ہے چار سُو باطل
پھر یہاں حق کا مدعا کیوں ہو؟
اب تو لوگوں کی صبحِ الفت کو
جانے کس لمحے شام ہو جائے
جانے کس موڑ پر کہاں کس کا
کوئی مطلب تمام ہو جائے
واعظہ رفیق
No comments:
Post a Comment