اس قدر پیار کا فقدان نہیں ہوتا تھا
پہلے میں اتنا پریشان نہیں ہوتا تھا
ہم سے حساس بھلا کیسے جیا کرتے تھے
یار جب مرنا بھی آسان نہیں ہوتا تھا
پڑ گیا ہے مری صحبت کا اثر اس پر بھی
ورنہ یہ دشت تو ویران نہیں ہوتا تھا
چوم لیتا تھا میں بے ساختہ تصویر تری
جب ترے آنے کا امکان نہیں ہوتا تھا
وقار حیات
No comments:
Post a Comment