عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
محراب خوں میں تر ہے تو منبر لہو لہو
مسجد میں ہے نبیﷺ کا برادر لہو لہو
قرآں کا ہر ورق بھی ہوا پاش پاش آج
زخمی ہے ہل اتٰی، تو ہے کوثر لہو لہو
ہائے شکستہ سر ہے پڑا نفسِ مصطفیٰؐ
یعنی ہُوا ہے قلبِ پیمبرﷺ لہو لہو
عباسؑ کا ہے قبلہ و کعبہ لہو لہان
زینبؑ ہوئیں ہیں ضرب کا سُن کر لہو لہو
کعبہ دُہائی دیتا ہے کس نے یہ کر دیا
شبیرؑ کا جگر،۔ دلِ شبرؑ لہو لہو
دیکھا فلک نے منظرِ ضربت تو چیخ اٹھا
نوحہ بلب قمر تھا تو اختر لہو لہو
دستار تار تار ہے دینِ متین کی
ایمانِ کل ہے اللہ اکبر، لہو لہو
رکھے ہے سربلند جسے دوشِ احمدیؐ
اس بُت شکن امیرؑ کا ہے سر لہو لہو
انیسویں کی صبح یہ دیکھے نماز نے
بازوئے مصطفیٰﷺ، یدِ داورؑ لہو لہو
مرقوم کس طرح ہو شہادت کی داستاں
سطریں لہو لہو ہیں، تو مُسطر لہو لہو
کُوفہ ذہن میں اُترے تو لگتا ہر طرف
منظر لہو لہو، پسِ منظر لہو لہو
سورۂ انبیاء کی ہیں آیات خُوں میں تر
جبریلؑ نے کہا ہوئے حیدرؑ لہو لہو
حسنی سید
سید محمد حسنین الثقلین
No comments:
Post a Comment