بنا سحر کے اجالے مجھے نہیں قبول
تِرے یہ جھوٹے دلاسے مجھے نہیں قبول
نہ تو مداری ہے نہ میں تِرا جمورا ہوں
یہ آئے دن کے تماشے مجھے نہیں قبول
بڑھا کے ہاتھ کو تم نے مجھے گرایا ہے
اگر یہی ہیں سہارے مجھے نہیں قبول
بنا سحر کے اجالے مجھے نہیں قبول
تِرے یہ جھوٹے دلاسے مجھے نہیں قبول
نہ تو مداری ہے نہ میں تِرا جمورا ہوں
یہ آئے دن کے تماشے مجھے نہیں قبول
بڑھا کے ہاتھ کو تم نے مجھے گرایا ہے
اگر یہی ہیں سہارے مجھے نہیں قبول
جو بھی کہنا تھا وہ ان کہا رہ گیا
دل کا ارمان دل میں دبا رہ گیا
عمر بھر اس کی جانب میں چلتی رہی
پھر بھی میلوں کا یہ فاصلہ رہ گیا
یوں تو دنیا میں سب کچھ ہے مجھ کو ملا
صرف تُو ہی تو مجھ سے جدا رہ گیا
سحر کے بعد بھی جو لوگ جاگنے سے رہے
کسی بھی خواب کی تعبیر دیکھنے سے رہے
ہٹا رہے ہیں سبھی راہ سے مِری پتھر
وہ میرے پاؤں کی زنجیر کاٹنے سے رہے
ہو دو قدم کی ہی دوری پہ تم کھڑے لیکن
قدم بڑھا کے مِرا ہاتھ تھامنے سے رہے
کاش مل جائے مِرے دل کو محبت تیری
مجھ کو ہر شے سے زیادہ ہے ضرورت تیری
اتنی عجلت میں نہ کر عمر کے وعدے مجھ سے
دو گھڑی بیٹھ کہ میں دیکھ لوں صورت تیری
چاہے جتنا بھی تو چھپ جائے مِری نظروں سے
میں نے ہر ایک میں دیکھی ہے شباہت تیری
سچ کی خاطر بتا تُو لڑا ہے کبھی
حق پہ رہ کر قدم بھر چلا ہے کبھی
کیوں کمی تیری محسوس ہو گی مجھے
ساتھ میرے کہاں تُو رہا ہے کبھی
مجھ سے پہلے بھی تو ہونگے ناقص یہاں
شور اتنا مگر کیا مچا ہے کبھی
آنکھوں سے نہ اشکوں کی روانی سے محبت
اس کو ہے فقط میری جوانی سے محبت
پہلے تو بہت خود کو مصیبت سے بچایا
پھر ہو ہی گئی دشمنِ جانی سے محبت
وہ ترکِ محبت پہ بھلا کیسے ہو راضی
ہو جس کو محبت کی نشانی سے محبت