Showing posts with label حنا عباس. Show all posts
Showing posts with label حنا عباس. Show all posts

Friday, 4 February 2022

بنا سحر کے اجالے مجھے نہیں قبول

 بنا سحر کے اجالے مجھے نہیں قبول

تِرے یہ جھوٹے دلاسے مجھے نہیں قبول

نہ تو مداری ہے نہ میں تِرا جمورا ہوں

یہ آئے دن کے تماشے مجھے نہیں قبول

بڑھا کے ہاتھ کو تم نے مجھے گرایا ہے

اگر یہی ہیں سہارے مجھے نہیں قبول

Thursday, 16 September 2021

جو بھی کہنا تھا وہ ان کہا رہ گیا

 جو بھی کہنا تھا وہ ان کہا رہ گیا

دل کا ارمان دل میں دبا رہ گیا

عمر بھر اس کی جانب میں چلتی رہی

پھر بھی میلوں کا یہ فاصلہ رہ گیا

یوں تو دنیا میں سب کچھ ہے مجھ کو ملا

صرف تُو ہی تو مجھ سے جدا رہ گیا

Wednesday, 15 September 2021

سحر کے بعد بھی جو لوگ جاگنے سے رہے

 سحر کے بعد بھی جو لوگ جاگنے سے رہے

کسی بھی خواب کی تعبیر دیکھنے سے رہے

ہٹا رہے ہیں سبھی راہ سے مِری پتھر

وہ میرے پاؤں کی زنجیر کاٹنے سے رہے

ہو دو قدم کی ہی دوری پہ تم کھڑے لیکن

قدم بڑھا کے مِرا ہاتھ تھامنے سے رہے

Tuesday, 14 September 2021

کاش مل جائے مرے دل کو محبت تیری

 کاش مل جائے مِرے دل کو محبت تیری

مجھ کو ہر شے سے زیادہ ہے ضرورت تیری

اتنی عجلت میں نہ کر عمر کے وعدے مجھ سے

دو گھڑی بیٹھ کہ میں دیکھ لوں صورت تیری

چاہے جتنا بھی تو چھپ جائے مِری نظروں سے

میں نے ہر ایک میں دیکھی ہے شباہت تیری

Monday, 13 September 2021

سچ کی خاطر بتا تو لڑا ہے کبھی

 سچ کی خاطر بتا تُو لڑا ہے کبھی

حق پہ رہ کر قدم بھر چلا ہے کبھی

کیوں کمی تیری محسوس ہو گی مجھے

ساتھ میرے کہاں تُو رہا ہے کبھی

مجھ سے پہلے بھی تو ہونگے ناقص یہاں

شور اتنا مگر کیا مچا ہے کبھی

Friday, 27 November 2020

آنکھوں سے نہ اشکوں کی روانی سے محبت

 آنکھوں سے نہ اشکوں کی روانی سے محبت

اس کو ہے فقط میری جوانی سے محبت

پہلے تو بہت خود کو مصیبت سے بچایا

پھر ہو ہی گئی دشمنِ جانی سے محبت

وہ ترکِ محبت پہ بھلا کیسے ہو راضی

ہو جس کو محبت کی نشانی سے محبت