Showing posts with label احمد اویس. Show all posts
Showing posts with label احمد اویس. Show all posts

Friday, 28 April 2023

بعد تیرے دوستا کوئی نہیں

 بعد تیرے دوستا کوئی نہیں

زندگی سے واسطہ کوئی نہیں

میں یہاں سے کب کا اٹھ کے جا چکا

اب یہاں میرے سوا کوئی نہیں

کال پر پوچھا جب اس نے کون ہو

میں نے جھٹ سے کہہ دیا کوئی نہیں

Sunday, 25 September 2022

گو تہ حلقۂ زنجیر نہیں ہوتے تھے

 گو تہِ حلقۂ زنجیر نہیں ہوتے تھے

تم مگر صاحب شمشیر نہیں ہوتے تھے

اس زمانے میں تِرا رنج کسے جانتا تھا

جس زمانے میں تقی میر نہیں ہوتے تھے

خواب میں رکھ دیا کرتے تھے گھروں کی بنیاد

اور وہ گھر کبھی تعمیر نہیں ہوتے تھے

Monday, 3 January 2022

خوف کچھ پرچھائیوں سے اس قدر کھاتا ہوں میں

 خوف کچھ پرچھائیوں سے اس قدر کھاتا ہوں میں

اپنے اندر جھانکتا ہوں، اور ڈر جاتا ہوں میں

غم کی دوشیزہ سمٹ جاتی ہے اپنے آپ میں

بانہیں اس کے سامنے جب جب بھی پھیلاتا ہوں میں

دوستو!! دیکھو، یہ دنیا ہے اسی جانب رہو

آئینے سے جھانکتے لوگوں کو سمجھاتا ہوں میں

Monday, 20 December 2021

مرا شوق قفس زندہ ہوا تھا

مِرا شوقِ قفس زندہ ہوا تھا

سو میں دنیا کا باشندہ ہوا تھا

اسے بھی دُکھ تھا گُزری ساعتوں کا

مجھے بھی رنجِ آئندہ ہوا تھا

اسے بھی معجزہ سمجھو، دمِ مرگ

میں ماں کو دیکھ کے زندہ ہوا تھا

Monday, 13 September 2021

کہیں پہ عشق کہیں زندگی کے دکھ پڑے ہیں

 کہیں پہ عشق کہیں زندگی کے دُکھ پڑے ہیں

ہمارے سامنے اس آگہی کے دکھ پڑے ہیں

خلا میں جاتے ہوئے لوگ جانتے ہی نہیں

پسِ فلک بھی اسی نارسی کے دکھ پڑے ہیں

یہ تم اندھیرے کے باسی نہیں سمجھ سکتے

ہماری آنکھ میں جس روشنی کے دکھ پڑے ہیں

Tuesday, 29 June 2021

بہت وسیع ہے دنیا مگر ہمارے لیے

 غبار


بہت وسیع ہے دنیا مگر ہمارے لیے

کسی بھی گوشۂ زنجیر میں پناہ نہیں

سو اپنے آپ میں ہی قید کر لیا خود کو

ہمیں بھی اب کوئی آزادیوں کی چاہ نہیں

کوئی بھی چیز میسر نہیں ہے دنیا میں

کوئی بھی چیز نہیں ہے مگر سکون تو ہو