بعد تیرے دوستا کوئی نہیں
زندگی سے واسطہ کوئی نہیں
میں یہاں سے کب کا اٹھ کے جا چکا
اب یہاں میرے سوا کوئی نہیں
کال پر پوچھا جب اس نے کون ہو
میں نے جھٹ سے کہہ دیا کوئی نہیں
بعد تیرے دوستا کوئی نہیں
زندگی سے واسطہ کوئی نہیں
میں یہاں سے کب کا اٹھ کے جا چکا
اب یہاں میرے سوا کوئی نہیں
کال پر پوچھا جب اس نے کون ہو
میں نے جھٹ سے کہہ دیا کوئی نہیں
گو تہِ حلقۂ زنجیر نہیں ہوتے تھے
تم مگر صاحب شمشیر نہیں ہوتے تھے
اس زمانے میں تِرا رنج کسے جانتا تھا
جس زمانے میں تقی میر نہیں ہوتے تھے
خواب میں رکھ دیا کرتے تھے گھروں کی بنیاد
اور وہ گھر کبھی تعمیر نہیں ہوتے تھے
خوف کچھ پرچھائیوں سے اس قدر کھاتا ہوں میں
اپنے اندر جھانکتا ہوں، اور ڈر جاتا ہوں میں
غم کی دوشیزہ سمٹ جاتی ہے اپنے آپ میں
بانہیں اس کے سامنے جب جب بھی پھیلاتا ہوں میں
دوستو!! دیکھو، یہ دنیا ہے اسی جانب رہو
آئینے سے جھانکتے لوگوں کو سمجھاتا ہوں میں
مِرا شوقِ قفس زندہ ہوا تھا
سو میں دنیا کا باشندہ ہوا تھا
اسے بھی دُکھ تھا گُزری ساعتوں کا
مجھے بھی رنجِ آئندہ ہوا تھا
اسے بھی معجزہ سمجھو، دمِ مرگ
میں ماں کو دیکھ کے زندہ ہوا تھا
کہیں پہ عشق کہیں زندگی کے دُکھ پڑے ہیں
ہمارے سامنے اس آگہی کے دکھ پڑے ہیں
خلا میں جاتے ہوئے لوگ جانتے ہی نہیں
پسِ فلک بھی اسی نارسی کے دکھ پڑے ہیں
یہ تم اندھیرے کے باسی نہیں سمجھ سکتے
ہماری آنکھ میں جس روشنی کے دکھ پڑے ہیں
غبار
بہت وسیع ہے دنیا مگر ہمارے لیے
کسی بھی گوشۂ زنجیر میں پناہ نہیں
سو اپنے آپ میں ہی قید کر لیا خود کو
ہمیں بھی اب کوئی آزادیوں کی چاہ نہیں
کوئی بھی چیز میسر نہیں ہے دنیا میں
کوئی بھی چیز نہیں ہے مگر سکون تو ہو