تین نا مکمل غزلیں
میں نے دیکھا ہے اس زمانے میں
لوگ ماہر ہیں دل دُکھانے میں
خواہشیں اس طرح سے رکھی ہیں
جیسے لاشیں ہوں سرد خانے میں
اب تو کچھ بھی نہیں بچا باقی
دیر کر دی ہے تم نے آنے میں
تین نا مکمل غزلیں
میں نے دیکھا ہے اس زمانے میں
لوگ ماہر ہیں دل دُکھانے میں
خواہشیں اس طرح سے رکھی ہیں
جیسے لاشیں ہوں سرد خانے میں
اب تو کچھ بھی نہیں بچا باقی
دیر کر دی ہے تم نے آنے میں
جاری و ساری ہے جلسہ عشق کا
دے رہا ہے فیض کتبہ عشق کا
نا مکمل ہو گا وہ میرے بغیر
جب لکھا جائے گا شجرہ عشق کا
پہلے دن سے عشق میری درسگاہ
میرے کاندھے پر ہے بستہ عشق کا
اب تو اس خوف سے ملا جائے
ہم کو مصروفیت نہ کھا جائے
کون پڑھتا ہے اب کتاب یہاں
سچ کو دیوار پر لکھا جائے
کوئی اظہار پر نہ قدغن ہو
جو بھی بولے اسے سنا جائے
پھول اُن کے لیے ہیں تو سبھی خار ہمارے
کس موڑ پہ لے آئے ہمیں یار ہمارے
اب آنکھ بھی جھپکیں تو بدل جاتی ہے دنیا
منصوبے چلے جاتے ہیں بے کار ہمارے
کشتی کو سنبھالیں بھی تو اب کیسے سنبھالیں
لہروں میں کہیں بہ گئے پتوار ہمارے