Showing posts with label ظفر محی الدین. Show all posts
Showing posts with label ظفر محی الدین. Show all posts

Monday, 29 May 2023

میں نے دیکھا ہے اس زمانے میں

 تین نا مکمل غزلیں


میں نے دیکھا ہے اس زمانے میں 

لوگ ماہر ہیں دل دُکھانے میں 

خواہشیں اس طرح سے رکھی ہیں 

جیسے لاشیں ہوں سرد خانے میں 

اب تو کچھ بھی نہیں بچا باقی 

دیر کر دی ہے تم نے آنے میں

Thursday, 25 May 2023

جاری و ساری ہے جلسہ عشق کا

 جاری و ساری ہے جلسہ عشق کا

دے رہا ہے فیض کتبہ عشق کا

نا مکمل ہو گا وہ میرے بغیر

جب لکھا جائے گا شجرہ عشق کا

پہلے دن سے عشق میری درسگاہ

میرے کاندھے پر ہے بستہ عشق کا

Tuesday, 4 April 2023

اب تو اس خوف سے ملا جائے

 اب تو اس خوف سے ملا جائے

ہم کو مصروفیت نہ کھا جائے

کون پڑھتا ہے اب کتاب یہاں

سچ کو دیوار پر لکھا جائے

کوئی اظہار پر نہ قدغن ہو

جو بھی بولے اسے سنا جائے

Tuesday, 28 March 2023

پھول ان کے لیے ہیں تو سبھی خار ہمارے

 پھول اُن کے لیے ہیں تو سبھی خار ہمارے

کس موڑ پہ لے آئے ہمیں یار ہمارے

اب آنکھ بھی جھپکیں تو بدل جاتی ہے دنیا

منصوبے چلے جاتے ہیں بے کار ہمارے

کشتی کو سنبھالیں بھی تو اب کیسے سنبھالیں

لہروں میں کہیں بہ گئے پتوار ہمارے