اب تو اس خوف سے ملا جائے
ہم کو مصروفیت نہ کھا جائے
کون پڑھتا ہے اب کتاب یہاں
سچ کو دیوار پر لکھا جائے
کوئی اظہار پر نہ قدغن ہو
جو بھی بولے اسے سنا جائے
زندگی ایک کڑوا جام سہی
مل ملا کر اسے پیا جائے
ہے زمانہ ہی اب ظفر ایسا
اپنی ہی ذات میں رہا جائے
ظفر محی الدین
No comments:
Post a Comment