Tuesday, 4 April 2023

اب تو اس خوف سے ملا جائے

 اب تو اس خوف سے ملا جائے

ہم کو مصروفیت نہ کھا جائے

کون پڑھتا ہے اب کتاب یہاں

سچ کو دیوار پر لکھا جائے

کوئی اظہار پر نہ قدغن ہو

جو بھی بولے اسے سنا جائے

زندگی ایک کڑوا جام سہی

مل ملا کر اسے پیا جائے

ہے زمانہ ہی اب ظفر ایسا

اپنی ہی ذات میں رہا جائے


ظفر محی الدین

No comments:

Post a Comment