Showing posts with label مقصود حسنی. Show all posts
Showing posts with label مقصود حسنی. Show all posts

Saturday, 10 December 2016

حرص کی رم جھم

حرص کی رم جھم

حرص کی رم جھم میں
مُلا پنڈت
گرجے کا فادر
گر کا امین
لمبڑ کے ڈیرے پر بیٹھے
آنکھوں میں پتھر رکھ کر
پکون کے گیت گائیں

بے شمار سوال جن کا جواب ابھی تک باقی ہے

باقی ہے ابھی

محبت کیا ہے
دماغ کا بخار
کوئی میٹھا جذبہ
قلبی رشتہ
کسی کے اپنا ہونے کا احساس

مجھے اب بے چہرہ جیون جینا ہے

مجھے اب 

میں اپنی تلاش میں تھا 
گلاب سے انگارے نکلے 
خوشبو سے شرارے اٹھے 
میرا چہرہ 
کوئی لے گیا 

بن مانگے نیچے ہاتھ کی دولت

بن مانگے

نیچے ہاتھ کی دولت
دل والوں کو کب خوش آتی ہے
تم نے کیوں سوچ لیا
میں کوتاہ کوس سہی
وہ تو
تو کی بستی بستا ہے

ایندھن دیکھتا اندھا، سنتا بہرا

ایندھن

دیکھتا اندھا، سنتا بہرا
سکنے کی منزل سے دور کھڑا
ظلم دیکھتا ہے
آہیں بھرتا ہے
بولتا نہیں، کہتا نہیں

میں نے دیکھا

میں نے دیکھا

پانیوں پر
میں اشک لکھنے چلا تھا
دیدۂ خوں دیکھ کر
ہر بوند
ہوا کے سفر پر نکل گئی
منصف کے پاس گیا

Saturday, 29 November 2014

ہر گھر سے

ہر گھر سے

دن کے اجالوں میں
خداہائے کفر ساز و کفر نواز
پیتے ہیں سچ کا لہو
کہ وہ اجالوں کی بستی میں 
زندہ رہیں

بے انت سمندر

بے انت سمندر

آنکھ میں پانی
آبِ کوثر
شبنم
گل کے ماتھے کا جھومر
جَل، جَل کر 
دھرتی کو جیون بخشے

رام بھلی کرے گا

رام بھلی کرے گا


ہاتھ کے بدلے ہاتھ
سر کے بدلے سر
تھپڑ کے بدلے تھپڑ
پتھر کے بدلے پتھر
میر جعفر نے
مگر لوٹ لیا ہے

سورج ڈوب رہا ہے

سورج ڈوب رہا ہے

میں جو بھی ہوں
چاند اور سورج کی کرنوں پر
میرا بھی تو حق ہے
دھرتی کا ہر موسم
خدا کا ہر گھر
میرا بھی تو ہے