Showing posts with label شاداں بدایونی. Show all posts
Showing posts with label شاداں بدایونی. Show all posts

Saturday, 22 March 2025

جو تیرے عہد میں پتھر کا آدمی ہوتا

 جو تیرے عہد میں پتھر کا آدمی ہوتا

کسی بشر کو نہ احساسِ زندگی ہوتا

متاعِ لفظ و بیاں دل کے پاس ہوتی تو

مِرے فسانے کا عنواں کچھ اور ہی ہوتا

ملا ہوں خود کو میں تنہا ہر اک منزل میں

کوئی رفیقِ سفر تھا تو ساتھ بھی ہوتا

Saturday, 1 March 2025

یہ نہ سمجھو ضبط غم سے دم مرا گھٹتا نہیں

 یہ نہ سمجھو ضبطِ غم سے دم مِرا گھٹتا نہیں

گھر سے باہر کیسے نکلوں، کوئی دروازہ نہیں

تپ کے غم کی آگ میں جب تک کہ دل نکھرا نہیں

اس نے اپنے درد کے قابل مجھے سمجھا نہیں

شہرِِ دل میں آج کل ہے اس قدر گہرا سکوت

جیسے اس بستی میں کوئی آدمی رہتا نہیں

Wednesday, 15 December 2021

سوز غم اہل محبت کو خدا بخشے ہے

سوز غم اہل محبت کو خدا بخشے ہے

یہ وہ مرہم ہے جو زخموں کو شفا بخشے ہے

زلف اپنی رخ روشن پہ سجی رہنے دو

میرے آئینۂ دل کو یہ جِلا بخشے ہے

بزم ہستی میں جو آیا ہے وہ جائے گا ضرور

کون جیتا ہے سدا کس کو قضا بخشے ہے

Thursday, 11 November 2021

پی کے ہم جام سکوں حد سے گزر تو جائیں

پی کے ہم جام سکوں حد سے گزر تو جائیں

ان کو پانا کوئی مشکل نہیں مر تو جائیں

یہ فضائے سحر و شام نکھر جائے گی

ان کی زلفیں مرے ہاتھوں سے سنور تو جائیں

چھیڑتے رہتے ہیں حالات کے نشتر ہر وقت

ورنہ زخموں کے دہن آپ ہی بھر تو جائیں