جو تیرے عہد میں پتھر کا آدمی ہوتا
کسی بشر کو نہ احساسِ زندگی ہوتا
متاعِ لفظ و بیاں دل کے پاس ہوتی تو
مِرے فسانے کا عنواں کچھ اور ہی ہوتا
ملا ہوں خود کو میں تنہا ہر اک منزل میں
کوئی رفیقِ سفر تھا تو ساتھ بھی ہوتا
جو تیرے عہد میں پتھر کا آدمی ہوتا
کسی بشر کو نہ احساسِ زندگی ہوتا
متاعِ لفظ و بیاں دل کے پاس ہوتی تو
مِرے فسانے کا عنواں کچھ اور ہی ہوتا
ملا ہوں خود کو میں تنہا ہر اک منزل میں
کوئی رفیقِ سفر تھا تو ساتھ بھی ہوتا
یہ نہ سمجھو ضبطِ غم سے دم مِرا گھٹتا نہیں
گھر سے باہر کیسے نکلوں، کوئی دروازہ نہیں
تپ کے غم کی آگ میں جب تک کہ دل نکھرا نہیں
اس نے اپنے درد کے قابل مجھے سمجھا نہیں
شہرِِ دل میں آج کل ہے اس قدر گہرا سکوت
جیسے اس بستی میں کوئی آدمی رہتا نہیں
سوز غم اہل محبت کو خدا بخشے ہے
یہ وہ مرہم ہے جو زخموں کو شفا بخشے ہے
زلف اپنی رخ روشن پہ سجی رہنے دو
میرے آئینۂ دل کو یہ جِلا بخشے ہے
بزم ہستی میں جو آیا ہے وہ جائے گا ضرور
کون جیتا ہے سدا کس کو قضا بخشے ہے
پی کے ہم جام سکوں حد سے گزر تو جائیں
ان کو پانا کوئی مشکل نہیں مر تو جائیں
یہ فضائے سحر و شام نکھر جائے گی
ان کی زلفیں مرے ہاتھوں سے سنور تو جائیں
چھیڑتے رہتے ہیں حالات کے نشتر ہر وقت
ورنہ زخموں کے دہن آپ ہی بھر تو جائیں