مرزا محمود سرحدی کے منتخب مزاحیہ قطعات
٭
ہم نے اقبال کا کہا مانا
اور فاقوں کے ہاتھوں مرتے رہے
جھکنے والوں نے رفعتیں پائیں
ہم خودی کو بلند کر تے رہے
٭
حقیقت کی تجھ کو خبر ہی نہیں ہے
مرزا محمود سرحدی کے منتخب مزاحیہ قطعات
٭
ہم نے اقبال کا کہا مانا
اور فاقوں کے ہاتھوں مرتے رہے
جھکنے والوں نے رفعتیں پائیں
ہم خودی کو بلند کر تے رہے
٭
حقیقت کی تجھ کو خبر ہی نہیں ہے
دوستو! اب عیش فرماؤ کہ تم آزاد ہو
جس طرف چاہو چلے جاؤ کہ تم آزاد ہو
دندناؤ کوچہ و بازار میں شام و سحر
اور گدائی پیشہ فرماؤ کہ تم آزاد ہو
نوچ لو چہروں سے تم پردہ نشینوں کے نقاب
اپنے ماضی سے نہ شرماؤ کہ تم آزاد ہو
مسلمانانِ الجزائر
الجزائر کے مسلمانو! خبر بھی ہے تمہیں
شمعِ آزادی کے پروانو! خبر بھی ہے تمہیں
چَین آتا ہے کسی طور نہ آرام ہمیں
فکر رہتی ہے تمہاری سحر و شام ہمیں
سوچتے ہیں کہ تمہارے لیے کیا کام کریں
یہ تو ہم سے نہیں ممکن کہ وہاں جا کے مریں
انتخابات
انقلابات ہونے والے ہیں
انتخابات ہونے والے ہیں
جیسے حالات تھے کبھی پہلے
ویسے حالات ہونے والے ہیں
بھائی بھائی میں باپ بیٹے میں
اختلافات ہونے والے ہیں
پکارنے کا قرینہ میں سوچتا ہی رہا
حسیں کہوں کہ حسینہ میں سوچتا ہی رہا
نمی سی تھی دمِ رخصت کچھ ان کے آنچل پر
وہ اشک تھے کہ پسینہ، میں سوچتا ہی رہا
تِرے کرم کی کوئی حد نہیں، حساب نہیں
چبا کے نانِ شبینہ میں سوچتا ہی رہا