دوستو! اب عیش فرماؤ کہ تم آزاد ہو
جس طرف چاہو چلے جاؤ کہ تم آزاد ہو
دندناؤ کوچہ و بازار میں شام و سحر
اور گدائی پیشہ فرماؤ کہ تم آزاد ہو
نوچ لو چہروں سے تم پردہ نشینوں کے نقاب
اپنے ماضی سے نہ شرماؤ کہ تم آزاد ہو
ہو سکے تو سود کهاؤ اور اسمگلنگ کرو
بعد ازاں حج کو چلے جاؤ کہ تم آزاد ہو
چور بازاروں کو پکڑو اور ان کو بخش دو
یعنی ان سے رشوتیں کهاؤ کہ تم آزاد ہو
مکر کے کپڑے پہن کر لیڈری کے روپ میں
سادہ دل لوگوں کو بہکاؤ کہ تم آزاد ہو
محمود سرحدی
No comments:
Post a Comment