مقفل در کیے جاتے ہیں ڈر کی بات جب ہو تو
عمامے طوق بن جاتے ہیں گھر کی بات جب ہو تو
پھٹی ہیں ایڑیاں، تلوے ہیں چھلنی، سُن مِری پوریں
مگر رُکتے نہیں پاؤں سفر کی بات جب ہو تو
برہنہ پا اسی لمحہ وہاں سے بھاگ جاتا ہوں
کبھی مجھ سے زمین و زن، زر کی بات جب ہو تو
ہے باب العلمؑ کا کا صدقہ، پریشانی نہیں ہوتی
نجوم و منطق و رمل و جعفر کی بات جب ہو تو
فقط وہ چاہتا ہے سادھ لوں چُپ، سر کو خم کر لوں
کسی لمحے اگر زیر و زبر کی بات جب ہو تو
میرے پیروں میں سانسیں ٹُوٹ جاتی ہیں مسافت کی
کبھی بھی قریہ قریہ، در بہ در کی بات جب ہو تو
تیری دستار کے بل کُھل کے آ جاتے ہیں گردن میں
کسی پنڈال میں تیرے پِسر کی بات جب ہو تو
میں بستی چھوڑ آیا ہوں اگرچہ دس برس پہلے
یہ سانسیں رُکنے لگتی ہیں اُدھر کی بات جب ہو تو
مجھے کم ظرف منصف سے پڑا ہے واسطہ آغا
وہ پوریں کاٹ دیتا ہے ہنر کی بات جب ہو تو
جاوید آغا
No comments:
Post a Comment