دھرتی ماں
بیٹا: میری ماں تیرے بیٹوں نے کیا کر دیا
درسگاہیں تیری قتل گاہیں بنیں
خوں کی ہولی ترے در پہ کھیلی گئی
تیرے گھر قاتلوں کی پناہیں بنیں
میری ماں تیری چادر کے ٹکڑے ہوئے
تجھ کو زخمی کیا تیری اولاد نے
تیرے بچوں نے تجھ پہ تشدد کیا
بم دھماکے کیے ذہنِ برباد نے
میری ماں تیرے ماتھے پہ گھاؤ لگے
تیرے پاؤں پہ گرنیڈ پھینکے گئے
تیرے سینے پہ بارود باندھا گیا
تیرے بال اور بازو بھی کھینچے گئے
میری ماں تیری دھرتی کو کیا ہو گیا
اس کی گلیوں میں بارود پھٹنے لگا
تیرے بیٹوں نے چادر تِری پھاڑ دی
سلسلہ تیرے سانسوں کا رکنے لگا
میری ماں! مسجدوں میں دھماکے ہوئے
بارگاہوں میں بارود بویا گیا
تیری آنکھیں سلاخوں سے چھلنی ہوئیں
تیرے چہرے کو پھر خوں سے دھویا گیا
میری ماں! درس تیرا محبت کا تھا
لیکن اب نفرتوں ہی کا پیغام ہے
انتہا ہو گئی سوچِ بیمار کی
نہ یہ تہذیب ہے، نہ یہ اسلام ہے
میری ماں! آج پھر انتہا ہو گئی
جسم چھلنی ہوئے علم غارت ہوا
ایک تعلیم و تفریح کا دشمن گروہ
پھر سے موت اور خون کی بشارت ہوا
میری ماں میں نے سوچا مجھے اس سے کیا
میری دہلیز پر آگ پہنچی نہیں
میں تو محفوظ ہوں، آگ سے دور ہوں
میرے گھر تک سیاہ رات پہنچی نہیں
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ماں: میرے بیٹے! جو مجھ پر تشدد ہوا
اس میں حصہ تمہارا بھی ہے سوچ لو
تم جو خاموش رہتے ہو اس جبر پر
اس پہ ذمہ تمہارا بھی ہے سوچ لو
میرے بیٹے! تمہیں سوچنا چاہیے
دستِ قاتل تو تفریق کرتا نہیں
خون سندھی، بلوچی یا پنڈی کا ہو
خنجرِ قتل تصدیق کرتا نہیں
خوں پٹھانوں کا ہو یا ہو کشمیر کا
خون یک رنگ ہے میرے ہر لال کا
میرا ہر اک پیارا ہے جانِ جگر
خون محسن کا ہو یا موہن لال کا
اس سے پہلے کہ آنگن تمہارا جلے
اپنی دہلیز پر خوں کے چھینٹے گریں
اس سے پہلے کہ روتی ہوئی بیٹیاں
شہر والوں کو معمول لگنے لگیں
توڑ دو دشمنوں کا غرور و ستم
بھول جاؤ کہ تم میں کوئی فرق ہے
وہ درندہ ذہن ہے، تم انسان ہو
پس کوئی فرق ہے تو یہی فرق ہے
اعتزاز احسن
No comments:
Post a Comment