امشب کسی کاکل کی حکایات ہے واللہ
کیا رات ہے، کیا رات ہے، کیا رات ہے واللہ
دل چھین لیا اس نے دِکھا دستِ حنائی
کیا بات ہے، کیا بات ہے، کیا بات ہے واللہ
عالم ہے جوانی کا جو ابھرا ہوا سینہ
کیا گات ہے، کیا گات ہے، کیا گات ہے واللہ
امشب کسی کاکل کی حکایات ہے واللہ
کیا رات ہے، کیا رات ہے، کیا رات ہے واللہ
دل چھین لیا اس نے دِکھا دستِ حنائی
کیا بات ہے، کیا بات ہے، کیا بات ہے واللہ
عالم ہے جوانی کا جو ابھرا ہوا سینہ
کیا گات ہے، کیا گات ہے، کیا گات ہے واللہ
ہم تو کہتے تھے دم آخر ذرا سستا نہ جا
لے، چلے ہم جان سے، مختار ہے اب جا نہ جا
لے دل بے تاب آتا ہے وہ کر لے عرض حال
دیکھتے ہی اس کی صورت اس قدر گھبرا نہ جا
تنگ ہو کر کس ادا سے وصل کی شب کو وہ شوخ
مجھ سے کہتا تھا کہ ہے ہے اس قدر لپٹا نہ جا
غافل نہ رہیو اس سے تو اے یار آج کل
مرتا ہے تیرے عشق کا بیمار آج کل
کیا جانیں کیا کرے گا وہ خونخوار آج کل
رکھتا بہت ہے ہاتھ میں تلوار آج کل
جو ہے سو آہ عشق کا بیمار ہے دِلا
پھیلا ہے بے طرح سے یہ آزار آج کل