Showing posts with label قلندر بخش جرأت. Show all posts
Showing posts with label قلندر بخش جرأت. Show all posts

Wednesday, 20 April 2022

امشب کسی کاکل کی حکایات ہے واللہ

 امشب کسی کاکل کی حکایات ہے واللہ

کیا رات ہے، کیا رات ہے، کیا رات ہے واللہ​

دل چھین لیا اس نے دِکھا دستِ حنائی

کیا بات ہے، کیا بات ہے، کیا بات ہے واللہ​

عالم ہے جوانی کا جو ابھرا ہوا سینہ

کیا گات ہے، کیا گات ہے، کیا گات ہے واللہ

Monday, 21 February 2022

ہم تو کہتے تھے دم آخر ذرا سستا نہ جا

 ہم تو کہتے تھے دم آخر ذرا سستا نہ جا

لے، چلے ہم جان سے، مختار ہے اب جا نہ جا

لے دل بے تاب آتا ہے وہ کر لے عرض حال

دیکھتے ہی اس کی صورت اس قدر گھبرا نہ جا

تنگ ہو کر کس ادا سے وصل کی شب کو وہ شوخ

مجھ سے کہتا تھا کہ ہے ہے اس قدر لپٹا نہ جا

Tuesday, 10 January 2017

بیٹھ آ وصل میں ٹک لطف اٹھانے دے مجھے

بیٹھ آ وصل میں ٹک لطف اٹھانے دے مجھے
اے تِرے پاؤں پڑوں ہاتھ لگانے دے مجھے
سرگزشت آتے ہی کیا پوچھے ہے اے میری جان
سب سناؤں گا تجھے آپ میں آنے دے مجھے
مجھ سے پوچھے ہے بگڑ کر وہ حقیقت میری
کچھ تو اے بے خبری بات بنانے دے مجھے

جس دن سے کہ تم پاس نہیں جان ہمارے

جس دن سے کہ تم پاس نہیں جان ہمارے
نہ ہوش ٹھکانے ہیں، نہ اوسان ہمارے
تم وعدے پہ خوب آئے کہ شب صبح تلک جان
دروازے کی آہٹ پہ رہے کان ہمارے
آیا ہے نظر مصحفِ رُو جب سے تمہارا
تم سامنے ہی رہتے ہو ہر آن ہمارے

کیوں کہ تم پاس سے ہم جائیں بھلا اور کہیں

کیوں کہ تم پاس سے ہم جائیں بھلا اور کہیں
جی تو لگتا ہی نہیں یاں کے سوا اور کہیں
نہ دیا میں نے جو ہمدم تِری باتوں کا جواب
مت برا مانیو اس وقت میں تھا اور کہیں
بیخودی کیا کہوں شب کو جو تِرے کوچے سے
اٹھ کے گھر اپنے چلا میں، تو گیا اور کہیں

Sunday, 25 December 2016

شب کو تڑپے یاں تلک درد فراق یار سے

شب کو تڑپے یاں تلک دردِ فراقِ یار سے
اک صدائے "الاماں" نکلی در و دیوار سے
دردِ دوری سے تِرے جو ہے قریبِ مرگِ آہ
دور دور اب موت بھی بھاگے ہے اس بیمار سے
بات کچھ وحشت میں بن آتی نہیں تو سن صدا
جی تو بہلاتے ہیں ہم زنجیر کی جھنکار سے

ہو کے آزردہ جو ہم سے وہ پرے پھرتے ہیں

ہو کے آزردہ جو ہم سے وہ پرے پھرتے ہیں
ہاتھ ہم اپنے کلیجے پہ دھرے پھرتے ہیں
خواب میں جیسے کہ پھرتے نظر آوے مُردہ
یوں کسی شخص پہ بس ہم بھی مرے پھرتے ہیں
پائیں ٹک رخصتِ گِریہ تو ہو پَل میں طوفاں
ابرِ جوشاں کی طرح ہم یہ بھرے پھرتے ہیں

پھر کیوں تجھ کو کہیے کہ بیداد گر نہیں

پھر کیوں تجھ کو کہیے کہ بے داد گر نہیں
مرتا ہوں تِرے غم میں، تجھے پر خبر نہیں
دل لگ گیا ہے اس بُتِ بے رحم سے مرا
بندہ تو کیا خدا کا بھی کچھ جس کو ڈر نہیں
سب طرح کی خدا نے تجھے دی ہیں نعمتیں
پر ایک رحم تجھ میں بتِ فتنہ گر نہیں

کون دیکھے گا بھلا اس میں ہے رسوائی کیا

کون دیکھے گا بھلا اس میں ہے رسوائی کیا
خواب میں آنے کی بھی تم نے قسم کھائی کیا
اس کا گھر چھوڑ کے ہم تو نہ کسی در پہ گئے
پر سمجھتا ہے اسے وہ بتِ ہرجائی کیا؟
سنتے ہی جس کے ہوئی جان ہوا تن سے مِرے
اس گلی سے یہ خبر بادِ صبا لائی کیا

Thursday, 24 March 2016

اتنا بتلا مجھے ہرجائی ہوں میں یار کہ تو

اتنا بتلا مجھے ہرجائی ہوں میں یار! کہ تُو
میں ہر اک شخص سے رکھتا ہوں سروکار کہ تو
کم ثباتی مِری ہر دم ہے مخاطب بہ حباب
دیکھیں تو پہلے ہم اس بحر سے ہوں پار کہ تو
ناتوانی مِری گلشن میں یہ ہی بحثے ہے
دیکھیں اسے نکہتِ گل! ہم ہیں سبکبار کہ تو

غم رو رو کے کہتا ہوں کچھ اس اگر اپنا

غم رو رو کے کہتا ہوں کچھ اس اگر اپنا
تو ہنس کے وہ بولے ہے، میاں! فکر کر اپنا
باتوں سے کٹے کس کی بھلا راہ ہماری
گر بت کے سوا کوئی نہیں ہمسفر اپنا
عالم میں ہے گھر گھر خوشی و عیش، پر اس بن
ماتم کدہ ہم کو نظر آتا ہے گھر اپنا

اب گزارا نہیں اس شوخ کے در پہ اپنا

اب گزارا نہیں اس شوخ کے در پہ اپنا
جس کے گھر کو یہ سمجھتے تھے کہ ہے گھر اپنا
کوچۂ دہر میں غافل نہ ہو پابندِ نشست
رہگزر میں کوئی کرتا نہیں بستر اپنا
غمزدہ اٹھ گئے دنیا ہی سے ہم آخر آہ
زانوئے غم سے لیکن نہ اٹھا سر اپنا

امشب کسی کاکل کی حکایات ہیں واللہ

امشب کسی کاکل کی حکایات ہیں واللہ
کیا رات ہے، کیا رات ہے، کیا رات ہے واللہ
دل لوٹ لیا اس نے دِکھا دستِ حنائی
کیا ہاتھ ہے، کیا ہاتھ ہے، کیا ہاتھ ہے واللہ
عالم ہے جوانی کا،۔ اور ابھرا ہوا سینہ
کیا گھات ہے، کیا گھات ہے، کیا گھات ہے واللہ

Wednesday, 3 February 2016

غافل نہ رہیو اس سے تو اے یار آج کل

 غافل نہ رہیو اس سے تو اے یار آج کل

مرتا ہے تیرے عشق کا بیمار آج کل

کیا جانیں کیا کرے گا وہ خونخوار آج کل

رکھتا بہت ہے ہاتھ میں تلوار آج کل

جو ہے سو آہ عشق کا بیمار ہے دِلا

پھیلا ہے بے طرح سے یہ آزار آج کل

Monday, 23 November 2015

آرام نہ ہو دل کو تو اے یار کریں کیا

آرام نہ ہو دل کو تو اے یار! کریں کیا
پھِر پھِر کے یہیں آتے ہیں ناچار کریں کیا
گھبرا کے مرض سے مِرے یوں بولے طبیب آہ
چنگا نہیں ہوتا ہے یہ بیمار کریں کیا
اک روز بھی در پر جو نظر آئے نہ وہ یار
تو رہ کے بھلا ہم پسِ دیوار کریں کیا

سر تن سے میرے تو نے ستمگار اتارا

سر تن سے میرے تُو نے ستمگار اتارا
آخر کو محبت میں مجھے پار اتارا
رک کر مِری فریاد سے ہمسائے یہ بولے
کس شخص نے یاں لا کے یہ بیمار اتارا
سر کٹنے کاقاتل! میں کروں شکر کہاں تک
تُو نے تو یہ تن پر سے بڑا بار اتارا

اب گزارا نہیں اس شوخ کے در پر اپنا

اب گزارا نہیں اس شوخ کے در پر اپنا
جس کے گھر کو یہ سمجھتے تھے کہ ہے گھر اپنا
کوچۂ دہر میں، غافل نہ ہو پابندِ نشست
رہگزر میں کوئی کرتا نہیں بستر اپنا
غم زدے اٹھ گئے دنیا ہی سے ہم آخر آہ
زانوئے غم سے ولیکن نہ اٹھا سر اپنا

مبتلا بس کہ ہوں میں اس بت ہرجائی کا

مبتلا بس کہ ہوں میں اس بتِ ہرجائی کا
جابجا کیوں نہ ہوں شہرہ مِری رسوائی کا
دید سو طرح کے عالم کہ ہمیں تھی جس جا
عالم آتا ہے نظر اب وہیں تنہائی کا
تک کے ہر ایک کی صورت کو وہ رو دیتا ہے
ان دنوں میں ہے یہ نقشا تِرے سودائی کا

Monday, 16 November 2015

کیوں دلا ہم ہوئے پابند غم یار کہ تو

کیوں دِلا! ہم ہوئے پابندِ غمِ یار کہ تُو
اب اذیت میں بھلا ہم ہیں گرفتار کہ تُو
ہم تو کہتے تھے نہ عاشق ہو اب اتنا تو بتا
جا کے ہم روتے ہیں پہروں پسِ دیوار کہ تُو
ہاتھ کیوں عشقِ بتاں سے نہ اٹھایا تُو نے
کفِ افسوس ہم اب ملتے ہیں ہر بار کہ تُو

بلبل سنے نہ کیونکہ قفس میں چمن کی بات

بلبل سنے نہ کیونکہ قفس میں چمن کی بات
آوارۂ وطن کو لگے خوش وطن کی بات
مت پوچھ حال اپنے تُو بیمارِ عشق کا
ہونے لگی اب اس کی تو گور و کفن
عیش طرب کا ذکر کروں کیا میں دوستو
مجھ غم زدہ سے پوچھئے رنج و محن کی بات