جس دن سے کہ تم پاس نہیں جان ہمارے
نہ ہوش ٹھکانے ہیں، نہ اوسان ہمارے
تم وعدے پہ خوب آئے کہ شب صبح تلک جان
دروازے کی آہٹ پہ رہے کان ہمارے
آیا ہے نظر مصحفِ رُو جب سے تمہارا
گر حرفِ غلط اس کو سمجھتے ہو تو اچھا
رکھ دیجے ابھی سامنے قرآن ہمارے
کچھ لطفِ محبت نہیں بلبل کی فغاں پر
اے گل! تِری ہستی سے کھُلے کان ہمارے
اس رشک پری کے جو تصور میں مریں ہم
مشہد پہ ملائک پڑھیں قرآن ہمارے
حسرت ہی رہی دل میں ولیکن نہ رہا وہ
اک رات بھی گھر آن کے مہمان ہمارے
قلندر بخش جرأت
No comments:
Post a Comment