Showing posts with label خواجہ پرویز. Show all posts
Showing posts with label خواجہ پرویز. Show all posts

Saturday, 26 September 2020

میں نے ہر کانٹا تیری راہ کا پلکوں سے چنا

گیت


 میں نے ہر کانٹا تیری راہ کا پلکوں سے چنا

لوگ کہتے ہیں میں دشمن ہوں تیرا تُو نے سنا

میں نے ہر کانٹا تیری راہ کا پلکوں سے چنا

لوگ کہتے ہیں میں دشمن ہوں تیرا تُو نے سنا


جانے کیا سوچ کے ہر ظلم روا رکھا ہے

کیا میں پتھر ہوں جو قدموں میں سدا رکھا ہے

Tuesday, 15 September 2020

درد یوں دل سے لگا ہو جیسے

فلمی گیت

درد یوں دل سے لگا ہو جیسے
میری چاہت کا صلہ ہو جیسے 
درد یوں دل سے لگا ہو 

پاس رہ کے بھی بہت دور ہوں میں
ایک بھولی سی صدا ہو جیسے
درد یوں دل سے لگا ہو جیسے 

Friday, 4 September 2020

دور دور رہ کے گزارہ نہیں ہو گا

فلمی گیت

دور دور رہ کے گزارہ نہیں ہو گا
ہمارا نہیں ہو گا تمہارا نہیں ہو گا
جی دور دور رہ کر گزارہ نہیں ہو گا

کبھی کبھی ملتے ہو ہم پہ خفا ہو
جان گئی ہوں تمہیں، تم بے وفا ہو
دیکھ دیکھ ایسے کنارہ نہیں ہو گا

فسانہ دل ہے مختصر سا کہ آگ دل میں بھڑک اٹھی ہے

فلمی گیت

فسانۂ دل ہے مختصر سا کہ آگ دل میں بھڑک اٹھی ہے
میری نظر بھی سوال بن کر تمہارے قدموں میں آ گئی ہے
فسانہ دل ہے مختصر سا 

دل میں رہ کر دور ہو تم کیا ہوئی ہم سے خطا
یونہی تڑپا تجھ کو تیری بے رخی کا واسطا
کہ میرا دل مجھ سے کہہ رہا ہے 

Thursday, 3 September 2020

محفل تو اجنبی تھی تم بھی ہوئے پرائے

فلمی گیت

محفل تو اجنبی تھی تم بھی ہوئے پرائے
منزل پہ آ گیا ہوں، منزل نظر نہ آئے
محفل تو اجنبی تھی 

میں خوشی کو ڈھونڈتا تھا مجھے درد مل گیا ہے
میرا جرم ہے محبت تیری بے بے رخی سزا ہے
ممکن نہیں ہے دل کو تیری یاد بھول جائے

جب کوئی پیار سے بلائے گا

فلمی گیت

جب کوئی پیار سے بلائے گا
تم کو ایک شخص یاد آئے گا
جب کوئی پیار سے بلائے گا

لذتِ غم سے آشنا ہو کر
اپنے محبوب سے جدا ہو کر
دل کہیں جب سکوں نہ پائے گا
تم کو ایک شخص یاد آئے گا

Saturday, 20 June 2020

اپنوں نے غم دئیے تو مجھے یاد آ گیا

فلمی گیت

اپنوں نے غم دئیے تو مجھے یاد آ گیا
اک اجنبی جو غیر تھا اور غمگسار تھا
اپنوں نے غم دئیے

٭
وہ ساتھ تھا تو دنیا کے غم دل سے دور تھے
خوشیوں کو ساتھ لے کے نہ جانے کہاں گیا
اک اجنبی جو غیر تھا اور غمگسار تھا
اپنوں نے غم دئیے

پیار بھرے دو شرمیلے نین جن سے ملا میرے دل کو چین

فلمی گیت

پیار بھرے دو شرمیلے نین 
جن سے ملا میرے دل کو چین
کوئی جانے نہ کیوں مجھ سے شرمائیں 
کیسے مجھے تڑپائیں
پیار بھرے دو شرمیلے نین

تمہی ہو محبوب میرے میں کیوں نہ تمہیں پیار کروں

فلمی گیت

تمہی ہو محبوب میرے میں کیوں نہ تمہیں پیار کروں
تمہی تو میری دنیا ہو میں کیوں نہ اقرار کروں
میرا پیار یاد رکھنا
تمہی تو میری دنیا ہو میں کیوں نہ اقرار کروں
تمہی ہو محبوب میرے میں کیوں نہ تمہیں پیار کروں
*

Tuesday, 4 October 2016

جو نہ مل سکے وہی بے وفا یہ بڑی عجیب سی بات ہے

گیت

جو نہ مل سکے وہی بے وفا، یہ بڑی عجیب سی بات ہے
جو چلا گیا مجھے چھوڑ کر، وہی آج تک میرے ساتھ ہے
جو نہ مل سکے وہی بے وفا ۔۔۔۔۔۔۔

جو کسی نظر سے عطا ہوئی، وہی روشنی ہے خیال میں
وہ نہ آ سکے رہوں منتظر، یہ خلش کہاں تھی وصال میں
میری جستجو کو خبر نہیں ، نہ وہ دن رہے، نہ وہ رات ہے

Wednesday, 12 August 2015

تیرے بنا یوں گھڑیاں بیتیں جیسے صدیاں بیت گئیں

فلمی گیت

تیرے بِنا یوں گھڑیاں بیتیں جیسے صدیاں بیت گئیں
تیرے بِنا یوں گھڑیاں بِیتیں جیسے صدیاں بِیت گئیں
تیرے بِنا یوں گھڑیاں بیتیں ۔۔۔۔۔۔۔

خود منزل کو ٹھکرایا ہے مجبوری کے سائے ہیں
تاریکی میں ہم نے اپنے دل کے داغ جلائے ہیں
ہار گئے دو پیار بھرے دل، ظالم رسمیں جیت گئیں
تیرے بِنا یوں گھڑیاں بیتیں ۔۔۔۔۔۔۔

دل ویراں ہے تیری یاد ہے تنہائی ہے

گیت/غزل

دل ویراں ہے، تیری یاد ہے، تنہائی ہے
زندگی درد کی بانہوں میں سمٹ آئی ہے
مِرے محبوب زمانے میں کوئی تجھ سا کہاں
تیرے جانے سے میری جان پہ بن آئی ہے
ایسا اجڑا ہے امیدوں کا چمن تیرے بعد
پھول مرجھائے، بہاروں پہ خزاں چھائی ہے