گیت
میں نے ہر کانٹا تیری راہ کا پلکوں سے چنا
لوگ کہتے ہیں میں دشمن ہوں تیرا تُو نے سنا
میں نے ہر کانٹا تیری راہ کا پلکوں سے چنا
لوگ کہتے ہیں میں دشمن ہوں تیرا تُو نے سنا
جانے کیا سوچ کے ہر ظلم روا رکھا ہے
کیا میں پتھر ہوں جو قدموں میں سدا رکھا ہے
گیت
میں نے ہر کانٹا تیری راہ کا پلکوں سے چنا
لوگ کہتے ہیں میں دشمن ہوں تیرا تُو نے سنا
میں نے ہر کانٹا تیری راہ کا پلکوں سے چنا
لوگ کہتے ہیں میں دشمن ہوں تیرا تُو نے سنا
جانے کیا سوچ کے ہر ظلم روا رکھا ہے
کیا میں پتھر ہوں جو قدموں میں سدا رکھا ہے