اپنے کام سے کام رکھا
فیضِ محبت عام رکھا
اہلِ جہاں کی خاطر بس
ارزاں اپنا دام رکھا
رزق کا پتھرعمر تمام
صبح اٹھایا، شام رکھا
اپنے کام سے کام رکھا
فیضِ محبت عام رکھا
اہلِ جہاں کی خاطر بس
ارزاں اپنا دام رکھا
رزق کا پتھرعمر تمام
صبح اٹھایا، شام رکھا
اچھا ہمارے قرب سے پہلو تہی سہی
تم چاہتے ہو اب نہ ملیں تو یہی سہی
ہر بات ہم نے اپنی بتا دی دی ہے دوستو
اک داستانِ عشق مگر ان کہی سہی
کھل کر کہا ہے اس نے ہمیں آج بے وفا
پوری ہوئی ہے آج کسر یہ رہی سہی
یہ تماشے جو تخت و تاج کے ہیں
شاخسانے یہ سب اناج کے ہیں
جن اصولوں کی پرورش کی تھی
وہ طلبگار اب خراج کے ہیں
خود سری، خودستائی، خودبینی
یہ رسوم و رواج آج کے ہیں
خواب پگھل کیوں جاتے ہیں
چہرے جل کیوں جاتے ہیں
میں بدلا تب علم ہوا
لوگ بدل کیوں جاتے ہیں
ظالم کے حصے کے عذاب
آخر ٹل کیوں جاتے ہیں
کسی خودسر سے چارہ مانگتی ہے
تمنا کیوں خسارہ مانگتی ہے
بقائے باہمی مشکل نہیں ہے
مگر ہستی اجارہ مانگتی ہے
حقائق تلخ ہوتے ہیں جبھی تو
محبت استعارہ مانگتی ہے