Showing posts with label آصف اکبر. Show all posts
Showing posts with label آصف اکبر. Show all posts

Thursday, 28 September 2023

اپنے کام سے کام رکھا فیضِ محبت عام رکھا

 اپنے کام سے کام رکھا

فیضِ محبت عام رکھا

اہلِ جہاں کی خاطر بس

ارزاں اپنا دام رکھا

رزق کا پتھرعمر تمام

صبح اٹھایا، شام رکھا

Saturday, 27 May 2023

اچھا ہمارے قرب سے پہلو تہی سہی

 اچھا ہمارے قرب سے پہلو تہی سہی

تم چاہتے ہو اب نہ ملیں تو یہی سہی

ہر بات ہم نے اپنی بتا دی دی ہے دوستو

اک داستانِ عشق مگر ان کہی سہی

کھل کر کہا ہے اس نے ہمیں آج بے وفا

پوری ہوئی ہے آج کسر یہ رہی سہی

Tuesday, 2 May 2023

یہ تماشے جو تخت و تاج کے ہیں

 یہ تماشے جو تخت و تاج کے ہیں

شاخسانے یہ سب اناج کے ہیں

جن اصولوں کی پرورش کی تھی

وہ طلبگار اب خراج کے ہیں

خود سری، خودستائی، خودبینی

یہ رسوم و رواج آج کے ہیں

Sunday, 30 April 2023

خواب پگھل کیوں جاتے ہیں

 خواب پگھل کیوں جاتے ہیں

چہرے جل کیوں جاتے ہیں

میں بدلا تب علم ہوا

لوگ بدل کیوں جاتے ہیں

ظالم کے حصے کے عذاب

آخر ٹل کیوں جاتے ہیں

Saturday, 11 September 2021

کسی خودسر سے چارہ مانگتی ہے

 کسی خودسر سے چارہ مانگتی ہے

تمنا کیوں خسارہ مانگتی ہے

بقائے باہمی مشکل نہیں ہے

مگر ہستی اجارہ مانگتی ہے

حقائق تلخ ہوتے ہیں جبھی تو

محبت استعارہ مانگتی ہے