Showing posts with label مومن خان مومن. Show all posts
Showing posts with label مومن خان مومن. Show all posts

Saturday, 4 May 2024

آئے ہو جب بڑھا کر دل کی جلن گئے ہو

آئے ہو جب بڑھا کر دل کی جلن گئے ہو

جوں سوز دل کہا ہے تم آگ بن گئے ہو

روٹھے سے روٹھے ہم سے منتے نہیں ہو کیونکر

غیروں سے جب لڑے ہو لڑتے ہی من گئے ہو

جاؤ تو جاؤ سوئے دشمن، سوئے فلک کیوں

اے گرم نالہ ہائے آتش فگن گئے ہو

Wednesday, 4 January 2017

ٹانکنے چاک گریباں کو تو ہر بار لگا

ٹانکنے چاک گریباں کو تو ہر بار لگا
ہاتھ کٹواؤں جو ناصح رہے اب تار لگا
بس کہ اک پردہ نشیں سے دلِ بیمار لگا
جو مریضوں سے چھپاتے ہیں وہ آزار لگا
جذبۂ دل کو نہ چھاتی سے لگاؤ کیونکر
آپ وہ میرے گلے دوڑ کے اک بار لگا

مومن سوے شرق اس بت کافر کا تو گھر ہے

مومن سُوئے شرق اس بت کافر کا تو گھر ہے
ہم سجدہ کدھر کرتے ہیں اور کعبہ کدھر ہے
رندوں پہ یہ بے داد خدا سے نہیں ڈرتے
اے محتسب! ایسا تجھے کیا شاہ کا ڈر ہے
ایسے دمِ آرام اثرِ خفتہ کب اٹھا
ہم کو عبث امیدِ دعا ہاۓ سحر ہے

Monday, 2 January 2017

میں اگر آپ سے جاؤں تو قرار آ جائے

میں اگر آپ سے جاؤں تو قرار آ جائے
پر یہ ڈرتا ہوں کہ ایسا نہ ہو یار آ جائے
کر ذرا اور بھی اے جوشِ جنوں خوار و ذلیل
مجھ سے ایسا ہو کہ ناصح کو بھی عار آ جائے
نامِ بد بختئ عشاقِ خزاں ہے بلبل
تُو اگر نکلے چمن سے تو بہار آ جائے

موے نہ عشق میں جب تک وہ مہرباں نہ ہوا

موئے نہ عشق میں جب تک وہ مہرباں نہ ہوا
بلائے جاں ہے وہ دل جو بلائے جاں نہ ہوا
خدا کی یاد دلاتے تھے نزع میں احباب
ہزار شکر کہ اس دم وہ بد گماں نہ ہوا
ہنسے نہ غیر مجھے بزم سے اٹھانے پر
سبک ہے وہ کہ تری طبع پر گراں نہ ہوا

Friday, 18 December 2015

ٹھانی تھی دل میں اب نہ ملیں گے کسی سے ہم

ٹھانی تھی دل میں اب نہ ملیں گے کسی سے ہم
پر کیا کریں کہ ہو گئے ناچار جی سے ہم
ہنستے جو دیکھتے ہیں کسی کو کسی سے ہم
منہ دیکھ دیکھ روتے ہیں کس بے کسی سے ہم
ہم سے نہ بولو تم اسے کیا کہتے ہیں بھلا
انصاف کیجے پوچھتے ہیں آپ ہی سے ہم

شب غم فرقت ہمیں کیا کیا مزے دکھلائے تھا

شب غمِ فرقت ہمیں کیا کیا مزے دکھلائے تھا
دم رکے تھا سینے میں کمبخت جی گھبرائے تھا
یا تو دم دیتا تھا وہ، یا نامہ بر بہکائے تھا
تھے غلط پیغام سارے، کون یاں تک آئے تھا
بل بے عیاری عدو کے آگے وہ پیماں شِکن
وعدۂ وصل آج پھر کرتا تھا اور شرمائے تھا

دل بستگی سی ہے کسی زلف دوتا کے ساتھ

دل بستگی سی ہے کسی زلفِ دوتا کے ساتھ
پالا پڑا ہے ہم کو خدا کس بلا کے ساتھ
کب تک نبھائیے بتِ نا آشنا کے ساتھ
کیجیے وفا کہاں تلک اس بے وفا کے ساتھ
یاد ہوائے یار نے کیا کیا نہ گُل کھلائے
آئی چمن سے نکہتِ گل جب صبا کے ساتھ

ہم جان فدا کرتے گر وعدہ وفا ہوتا

ہم جان فدا کرتے، گر وعدہ وفا ہوتا
مرنا ہی مقدر تھا وہ آتے تو کیا ہوتا
اس حسن پہ خلوت میں جو حال کیا کم تھا
کیا جانیے کیا کرتا گر تُو مِری جا ہوتا
ایک ایک ادا سو سو دیتی ہے جواب اس کے
کیونکر لبِ قاصد سے، پیغام ادا ہوتا

Thursday, 17 December 2015

اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا

اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا
رنج راحت فزا نہیں ہوتا
بے وفا کہنے کی شکایت ہے
تو بھی وعدہ وفا نہیں ہوتا
ذکرِ اغیار سے ہوا معلوم
حرفِ ناصح برا نہیں ہوتا

مار ہی ڈال مجھے چشم ادا سے پہلے

مار ہی ڈال مجھے چشمِ ادا سے پہلے 
اپنی منزل کو پہنچ جاؤں قضا سے پہلے
اک نظر دیکھ لوں، آ جاؤ قضا سے پہلے 
تم سے ملنے کی تمنا ہے خدا سے پہلے 
حشر کے روز میں پوچھوں گا خدا سے پہلے 
تُو نے روکا نہیں کیوں مجھ کو خطا سے پہلے

محشر میں پاس کیوں دم فریاد آ گیا

محشر میں پاس کیوں دمِ فریاد آ گیا
رحم اس نے کب کیا تھا کہ اب یاد آ گیا
الجھا ہے پاؤں یار کا زلفِ دراز میں
لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا
ناکامیوں میں تم نے جو تشبیہ مجھ سے دی
شیریں کو دردِ تلخئ فرہاد آ گیا

اعجاز جاں وہی ہے ہمارے کلام کو

اعجازِ جاں وہی ہے ہمارے کلام کو
زندہ کیا ہے ہم نے مسیحا کے نام کو
لِکھو سلام غیر کے خط میں غلام کو
بندے کا بس سلام ہے ایسے سلام کو
اب شور ہے مثال جو دی اس خرام کو
یوں کون جانتا تھا قیامت کے نام کو

جلتا ہوں ہجر شاہد و ياد شراب ميں

جلتا ہوں ہجر شاہد و ياد شراب ميں
شوق ثواب نے مجھے ڈال عذاب ميں 
کہتے ہيں تم کو ہوش نہيں اضطراب ميں
سارے گلے تمام ہوئے اک جواب ميں
رہتے ہيں جمع کوچہ جاناں ميں خاص و عام
آباد ايک گھر ہے جہاں خراب ميں

Tuesday, 15 December 2015

قہر ہے موت ہے قضا ہے عشق

قہر ہے موت ہے قضا ہے عشق
سچ تو يہ ہے بری بلا ہے عشق
اثرِ غم ذرا بتا دينا
وہ بہت پوچھتے ہيں کيا ہے عشق
آفت جاں ہے کوئی پردہ نشيں
مِرے دل ميں آ چھپا ہے عشق

اگر غفلت سے باز آیا جفا کی​

اگر غفلت سے باز آیا جفا کی​
تلافی کی بھی ظالم نے تو کیا کی​
موئے آغازِ الفت میں ہم افسوس
اسے بھی رہ گئی حسرت جفا کی
کبھی انصاف ہی دیکھا نہ دیدار​
قیامت اکثر اس کُو میں رہا کی​

گر غیر کے گھر سے نہ دل آرام نکلتا

گر غیر کے گھر سے نہ دل آرام نکلتا 
دم کاہے کو یوں اے دلِ ناکام نکلتا 
میں وہم سے مرتا ہوں وہاں رعب سے اس کے 
قاصد کی زباں سے نہیں پیغام نکلتا 
کرتے جو مجھے یاد شبِ وصل عدو تم 
کیا صبح کو خورشید نہ تا شام نکلتا 

رات کس کس طرح کہا نہ رہا

رات کس کس طرح کہا نہ رہا
نہ رہا پر وہ مہ لقا نہ رہا
غیر آ کر قریب خانہ رہا
شوق اب تیرے آنے کا نہ رہا
تیرے پردہ نے کی یہ پردہ دری
تیرے چھپتے ہی کچھ چھپا نہ رہا

Monday, 14 December 2015

سیماب ہے پہلو میں مرے دل تو نہیں یہ

سیماب ہے پہلو میں مِرے، دل تو نہیں یہ 
اس دل نے ستایا مجھے، غارت ہو کہیں یہ
معلوم رسائی تِرے کانوں تک اگرچہ
نالہ مِرا کہتا ہے کہ ہے عرشِ بریں یہ
کچھ شورِ محبت کی تو لذت ہی نہ پوچھو
ہے آپ کے بھی حسن سے کتنا نمکیں یہ

میں احوال دل مر گیا کہتے کہتے

میں احوالِ دل مر گیا کہتے کہتے
تھکے تم نہ 'بس سنا' کہتے کہتے
مجھے چپ لگی 'مدعا' کہتے کہتے
رکے ہیں وہ کیا جانے کیا کہتے کہتے
زباں گنگ ہے عشق میں گوش کر ہے
برا سنتے سنتے، بھلا کہتے کہتے