اگر غفلت سے باز آیا جفا کی
تلافی کی بھی ظالم نے تو کیا کی
موئے آغازِ الفت میں ہم افسوس
اسے بھی رہ گئی حسرت جفا کی
کبھی انصاف ہی دیکھا نہ دیدار
فلک کے ہاتھ سے میں جا چھپوں گر
خبر لا دے کوئی تحت الثریٰ کی
شبِ وصل عدو کیا کیا جلا ہوں
حقیقت کھل گئی روزِ جزا کی
چمن میں کوئی اس کُو سے نہ آیا
گئی برباد سب محنت صبا کی
کشادِ دل پہ باندھی ہے کمر آج
نہیں خیر آپ کے بندِ قبا کی
کِیا جب التفات اس نے ذرا سا
پڑی ہم کو حصولِ مدعا کی
کہا ہے غیر نے تم سے مِرا حال
کہے دیتی ہے بے باکی ادا کی
تمہیں شورو فغاں سے میرے کیا کام
خبر لو اپنی چشمِ سرمہ سا کی
دیا علم و ہنر حسرت کشی کو
فلک نے مجھ سے یہ کیسی دغا کی
غمِ مقصد رسی تا نزع اور ہم
اب آئی موت بختِ نارسا کی
مجھے اے دل تِری جلدی نے مارا
نہیں تقصیر اس دیر آشنا کی
جفا سے تھک گئے تو بھی نہ پوچھا
کہ تُو نے کس توقع پر وفا کی
کہا اس شوخ سے مرتا ہوں تو مومنؔ
کہا میں کیا کروں، مرضی خدا کی
مومن خان مومن
No comments:
Post a Comment