محبت کا ہو گا اثر رفتہ رفتہ
نظر سے ملے گی نظر رفتہ رفتہ
شبِ غم کی طولانیوں سے نہ گھبرا
کہ اس کی بھی ہو گی سحر رفتہ رفتہ
جہاں ہم کہیں نقشِ پا چھوڑ آئے
مِرے ساتھ جو دو قدم بھی چلا ہے
وہی بن گیا ہم سفر رفتہ رفتہ
خدا جانے کیوں سر جھکانے لگے ہیں
مجھے دیکھ کر چارہ گر رفتہ رفتہ
ابھی اس نے آنے کا وعدہ کیا ہے
چمکنے لگے بام و در رفتہ رفتہ
شبِ غم کی روداد کیا پوچھتے ہو
سحرؔ کو ملی ہے سحر رفتہ رفتہ
سحر دہلوی
(کنور مہندر سنگھ بیدی)
No comments:
Post a Comment