Showing posts with label طارق غازی. Show all posts
Showing posts with label طارق غازی. Show all posts

Sunday, 19 April 2026

تیرا من بھی سوتا ہے

 تیرا من بھی سوتا ہے​

تو بھی جیون کھوتا ہے​

من کی اُور دھیان نہیں​

تن گنگا میں دھوتا ہے​

کرشن بچارا سوکھے منہ​

گوالا زہر بلوتا ہے

Wednesday, 9 April 2025

کہوں دنیا میں اب میں کس سے جا کر

 کہوں دنیا میں اب میں کس سے جا کر

اگر کرنا ہے کچھ تھوڑی وفا کر

ہمارے بخت میں آنسو نہیں ہیں

کوئی حاصل نہیں دریا بہا کر

میں خالی چشم لوٹ آیا دوبارہ

تُو دریا ہے تو دو آنسو عطا کر

Wednesday, 11 December 2024

چند یادیں ہیں بام و در کے سوا

 چند یادیں ہیں بام و در کے سوا

ذہن میں کچھ نہیں کھنڈر کے سوا

سر بہت تھے جہان فانی میں

در نہ تھا کوئی تیرے در کے سوا

سب سقیفہ میں نذر کر آئے

اپنی تاریخ کو نظر کے سوا

Tuesday, 10 December 2024

بدن کا بیسواں حصہ یہ سر ہے

 بدن کا بیسواں حصہ یہ سر ہے

مِرا افسانہ کتنا مختصر ہے

جہان‌ِ اہلِ حق زیر و زبر ہے

اسی میں امتحانِ خیر و شر ہے

وہی معتوب ہیں اس داستاں میں

جنہیں عنوانِ ہستی کی خبر ہے