تیرا من بھی سوتا ہے
تو بھی جیون کھوتا ہے
من کی اُور دھیان نہیں
تن گنگا میں دھوتا ہے
کرشن بچارا سوکھے منہ
گوالا زہر بلوتا ہے
تیرا من بھی سوتا ہے
تو بھی جیون کھوتا ہے
من کی اُور دھیان نہیں
تن گنگا میں دھوتا ہے
کرشن بچارا سوکھے منہ
گوالا زہر بلوتا ہے
کہوں دنیا میں اب میں کس سے جا کر
اگر کرنا ہے کچھ تھوڑی وفا کر
ہمارے بخت میں آنسو نہیں ہیں
کوئی حاصل نہیں دریا بہا کر
میں خالی چشم لوٹ آیا دوبارہ
تُو دریا ہے تو دو آنسو عطا کر
چند یادیں ہیں بام و در کے سوا
ذہن میں کچھ نہیں کھنڈر کے سوا
سر بہت تھے جہان فانی میں
در نہ تھا کوئی تیرے در کے سوا
سب سقیفہ میں نذر کر آئے
اپنی تاریخ کو نظر کے سوا
بدن کا بیسواں حصہ یہ سر ہے
مِرا افسانہ کتنا مختصر ہے
جہانِ اہلِ حق زیر و زبر ہے
اسی میں امتحانِ خیر و شر ہے
وہی معتوب ہیں اس داستاں میں
جنہیں عنوانِ ہستی کی خبر ہے