سبق پڑھا کے مجھے اپنی آشنائی کا
دیا ہے داغ کسی نے غمِ جدائی کا
علاج ہو نہ سکے جس سے اپنی آئی کا
خدا کی شان وہ دعویٰ کرے خدائی کا
چھپیں گے میری نگاہوں سے کیا وہ پردہ میں
کہ عالم آئینہ ہے ان کی خود نمائی کا
سبق پڑھا کے مجھے اپنی آشنائی کا
دیا ہے داغ کسی نے غمِ جدائی کا
علاج ہو نہ سکے جس سے اپنی آئی کا
خدا کی شان وہ دعویٰ کرے خدائی کا
چھپیں گے میری نگاہوں سے کیا وہ پردہ میں
کہ عالم آئینہ ہے ان کی خود نمائی کا
ہوں اسیر دام الفت کس ستم ایجاد کا
ہے دگرگوں حال میری خاطرِ ناشاد کا
میں شہیدِ ناز ہوں جس بائی بے داد کا
کھینچنا نقشا مِری تُربت پر اس جلاد کا
کھینچنا چاہیں اگر تصویر میری یار کی
رنگ مانی کا اڑے، ٹوٹے قلم بہزاد کا
بھلا تو اور اے ظالم بھرے دم میری الفت کا
غضب کی تیری چالیں ہیں، یہ فقرا ہے قیامت کا
لگا کر دل ہوا ہے سامنا لاکھوں مصیبت کا
ستم ہوتا ہے آ جانا حسینوں پر طبیعت کا
مئے گلرنگ سے سیراب کر دے جلد اے ساقی
تِری ڈیوڑھی پر آیا ہوں میں پیاسا ایک مدت کا
عجز سے رتبہ بڑھا وہ تِرے شیدائی کا
رشک خورشید بنا داغ جبیں سائی کا
کہتے ہیں جس کو قیامت ہے کرشمہ تیرا
حشر کیا چیز ہے مجمع ہے تماشائی کا
آئینہ خانے میں جاتے ہو سنورنے کے لیے
دیکھو دعویٰ نہ غلط ہو کہیں یکتائی کا
مٹی ہاتھ لگا لیتی ہے، پانی مس ہو جاتا ہے
چاک پہ آتے آتے کوزہ خود بے بس ہو جاتا ہے
دن بھر کرنوں کی آوازیں گونجتی رہتی ہیں دل میں
شام کے بعد یہ گرجا عیسیٰ کا محبس ہو جاتا ہے
اچھا تو اس کیکر پر زیتون کی شاخیں جھکتی ہیں
اچھا تو یہ ہجر ہے جو ہجرِ اقدس ہو جاتا ہے
تِرے درویش جو احساسِ زیاں رکھتے ہیں
ایسے طوفان، سمندر بھی کہاں رکھتے ہیں
تم یہ مُرجھائے ہوئے پھول کہاں لے آئے
ہم تو متروک صحیفوں کو یہاں رکھتے ہیں
بیٹھ جاتے ہیں درختوں کی گھنی چھاؤں میں
بوڑھے ماں باپ کی یادوں کو جواں رکھتے ہیں
گِلا ہے بے وفائی کا نہ شکوا کج ادائی کا
عجب لذت فزا ہے درد زخمِ آشنائی کا
تِری راہِ طلب میں ناتوانی میری حائل ہے
نتیجا دیکھئے ہوتا ہے کیا بے دست و پائی کا
ہوائے موسمِ گل ہے تِرے میکش نہ سنبھلیں گے
کریں گے ٹکڑے ٹکڑے آج دامن پارسائی کا
دنیا تو رکھ چکی تھی کہیں مجھ کو کھیل کر
لایا ہوں اس مقام پہ خود کو دھکیل کر
دل کو ابھی تو گردشِ دوراں سے مت ڈرا
سہما ہوا ہے ہجر کے صدمات جھیل کر
غم کا رگیدنا بھی بجا ہے، پہ اس جگہ
پہنچا ہوں پتھروں کو میں رستے کے بیل کر