Showing posts with label قیس آروی. Show all posts
Showing posts with label قیس آروی. Show all posts

Monday, 10 April 2023

سبق پڑھا کے مجھے اپنی آشنائی کا

 سبق پڑھا کے مجھے اپنی آشنائی کا

دیا ہے داغ کسی نے غمِ جدائی کا

علاج ہو نہ سکے جس سے اپنی آئی کا

خدا کی شان وہ دعویٰ کرے خدائی کا

چھپیں گے میری نگاہوں سے کیا وہ پردہ میں

کہ عالم آئینہ ہے ان کی خود نمائی کا

Wednesday, 5 April 2023

ہوں اسیر دام الفت کس ستم ایجاد کا

 ہوں اسیر دام الفت کس ستم ایجاد کا

ہے دگرگوں حال میری خاطرِ ناشاد کا

میں شہیدِ ناز ہوں جس بائی بے داد کا

کھینچنا نقشا مِری تُربت پر اس جلاد کا

کھینچنا چاہیں اگر تصویر میری یار کی

رنگ مانی کا اڑے، ٹوٹے قلم بہزاد کا

Friday, 31 March 2023

بھلا تو اور اے ظالم بھرے دم میری الفت کا

 بھلا تو اور اے ظالم بھرے دم میری الفت کا

غضب کی تیری چالیں ہیں، یہ فقرا ہے قیامت کا

لگا کر دل ہوا ہے سامنا لاکھوں مصیبت کا

ستم ہوتا ہے آ جانا حسینوں پر طبیعت کا

مئے گلرنگ سے سیراب کر دے جلد اے ساقی 

تِری ڈیوڑھی پر آیا ہوں میں پیاسا ایک مدت کا

Thursday, 30 March 2023

عجز سے رتبہ بڑھا وہ ترے شیدائی کا

 عجز سے رتبہ بڑھا وہ تِرے شیدائی کا

رشک خورشید بنا داغ جبیں سائی کا

کہتے ہیں جس کو قیامت ہے کرشمہ تیرا

حشر کیا چیز ہے مجمع ہے تماشائی کا

آئینہ خانے میں جاتے ہو سنورنے کے لیے

دیکھو دعویٰ نہ غلط ہو کہیں یکتائی کا

Wednesday, 22 March 2023

مٹی ہاتھ لگا لیتی ہے پانی مس ہو جاتا ہے

 مٹی ہاتھ لگا لیتی ہے، پانی مس ہو جاتا ہے

چاک پہ آتے آتے کوزہ خود بے بس ہو جاتا ہے

دن بھر کرنوں کی آوازیں گونجتی رہتی ہیں دل میں

شام کے بعد یہ گرجا عیسیٰ کا محبس ہو جاتا ہے

اچھا تو اس کیکر پر زیتون کی شاخیں جھکتی ہیں

اچھا تو یہ ہجر ہے جو ہجرِ اقدس ہو جاتا ہے

Friday, 10 December 2021

ترے درویش جو احساس زیاں رکھتے ہیں

 تِرے درویش جو احساسِ زیاں رکھتے ہیں

ایسے طوفان، سمندر بھی کہاں رکھتے ہیں

تم یہ مُرجھائے ہوئے پھول کہاں لے آئے

ہم تو متروک صحیفوں کو یہاں رکھتے ہیں

بیٹھ جاتے ہیں درختوں کی گھنی چھاؤں میں

بوڑھے ماں باپ کی یادوں کو جواں رکھتے ہیں

Wednesday, 24 February 2021

گلہ ہے بے وفائی کا نہ شکوا کج ادائی کا

 گِلا ہے بے وفائی کا نہ شکوا کج ادائی کا

عجب لذت فزا ہے درد زخمِ آشنائی کا

تِری راہِ طلب میں ناتوانی میری حائل ہے

نتیجا دیکھئے ہوتا ہے کیا بے دست و پائی کا

ہوائے موسمِ گل ہے تِرے میکش نہ سنبھلیں گے

کریں گے ٹکڑے ٹکڑے آج دامن پارسائی کا

Monday, 23 November 2020

دنیا تو رکھ چکی تھی کہیں مجھ کو کھیل کر

 دنیا تو رکھ چکی تھی کہیں مجھ کو کھیل کر

لایا ہوں اس مقام پہ خود کو دھکیل کر

دل کو ابھی تو گردشِ دوراں سے مت ڈرا

سہما ہوا ہے ہجر کے صدمات جھیل کر

غم کا رگیدنا بھی بجا ہے، پہ اس جگہ

پہنچا ہوں پتھروں کو میں رستے کے بیل کر